میں ایک جگہ کام کرتا ہوں، جہاں پر کام کی نوعیت کچھ یوں ہے کہ وہاں پر بنٹی، چوکلیٹ اور ببل وغیرہ بنتی ہیں، جن کے اوپر کچھ کیمیکل لگا کر اس کو آگے فروخت کیا جاتا ہے، اور کیمیکل کی تفصیل اور تمام معلومات لف کردہ پرچی پر موجود ہیں، اور یہ پرچی فروخت کردہ ڈبے پر چسپاں کرکے اس کو آگے فروخت کیا جاتا ہے، اس کے بارے میں یہ معلوم کرنا ہے کہ آیا یہ کام حلال ہے یا حرام؟ اور ایسی جگہ ملازمت کرنا شرعاً درست ہے یا نہیں؟
لف کردہ پرچی کو بغور دیکھا گیا، اس پرچی میں دو اجزاء ایسے ہیں، جن میں گفتگو ممکن ہے، ایک شیلاک اور دوسرا آئسوپروپائل الکوحل، جہاں تک شیلاک کا تعلق ہےتو شیلاک کیڑوں سے نکلنے والا مادہ اور ریزش ہے، اور بہت سے علماء کے نزدیک یہ پاک تو ہےاور اس کا خارجی استعمال بھی درست ہے، لیکن خبائث میں سے ہونے کی وجہ سے اس کا داخلی استعمال شرعاًجائز نہیں، جبکہ دیگر بعض حضرات کے نزدیک چونکہ کیڑے کی ریزش کی حرمت پر کوئی نصِ صریح موجود نہیں، اور اسے شہد پر بھی قیاس کرنا ممکن ہے، اسی طرح شیلاک کے کسی بھی پروڈکٹ میں استعمال سے پہلے متعدد کیمیائی مراحل اور پروسیسنگ سے گزرنے کی وجہ سے اس کی گھن بھی باقی نہیں رہتی۔ لہٰذا اس کے داخلی استعمال کی بھی شرعاًگنجائش ہوگی، اور ہمارے نزدیک یہی رائے راجح اور زیادہ درست ہے، جبکہ آئسوپروپائل الکوحل انڈسٹری کے موجودہ غالب پریکٹس کے مطابق انگور، کھجور اور منقٰی (نجس شراب) سے کشید کردہ نہیں، لہٰذا اس کے استعمال کی گنجائش ہے بشرطیکہ نشہ آور مقدار میں نہ ہو، البتہ اگر باوثوق ذرائع سے الکحل نجس شراب یعنی انگور اور کھجور سے ماخوذ ہو تو اس کا استعمال جائز نہیں۔
کما فی روح المعانی:(یحل لھم الطیبات ویحرم علیھم الخبائث) فسر الأول بالأشياء التي يستطيبھا الطبع كالشحوم، والثاني بالأشياء التي يستخبثھا كالدم، فتكون الآية دالة على أن الأصل في كل ما تستطيبه النفس ويستلذه الطبع الحل وفي كل ما تستخبثه النفس ويكرهه الطبع الحرمة إلا لدليل منفصل إلخ۔ (سورۃ الأعراف، آیت نمبر:157، ج 5، ص 77، ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
وفی تکملۃ فتح الملھم: وبھذا یتبین حکم الکحول المسکرۃ (AL COHALS) التی عمت بھا البلوی الیوم، فإنھا تستعمل فی کثیر من الأدویۃ والعطور والمرکبات الأخری، فإنھا إن اتخذت من العنب أو التمر فلا سبیل إلی حلتھا أو طھارتھا، وإن اتخذت من غیرھما فالأمر فیھا سھل علی مذھب أبی حنیفۃ رحمہ اللہ تعالی، ولا یحرم استعمالھا للتداوی أو لأغراض مباحۃ أخری ما لم تبلغ حد الإسکار، لأنھا إنما تستعمل مرکبۃ مع المواد الأخری، ولا یحکم بنجاستھا أخذا بقول أبی حنیفۃ رحمہ اللہ۔ وإن معظم الکحول التی تستعمل الیوم فی الأدویۃ والعطور وغیرھا لا تتخذ من العنب أو التمر، إنما تتخذ من الحبوب أو القشور أو البترول وغیرہ، کما ذکرنا فی باب بیع الخمر من کتاب البیوع، وحینئذ ھناک فسحۃ فی الأخذ بقول أبی حنیفۃ عند عموم البلوی، واللہ سبحانہ اعلم إلخ۔ (کتاب الأشربۃ، ج 3، ص 608، ط:دار العلوم کراتشی)۔
وفی إحیاء علوم الدین: وما لم يذبح ذبحا شرعيا أو مات فھو حرام ولا يحل إلا ميتتان السمك والجراد وفي معناهما ما يستحيل من الأطعمة كدود التفاح والخل والجبن فإن الاحتراز منھما غير ممكن فأما إذا أفردت وأكلت فحكمھا حكم الذباب والخنفساء والعقرب وكل ما ليس له نفس سائلة لا سبب في تحريمھا إلا الاستقذار ولو لم يكن لكان لا يكره فإن وجد شخص لا يستقذره لم يلتفت إلى خصوص طبعه فإنه التحق بالخبائث لعموم الاستقذار فيكره أكله إلخ۔ (کتاب الحلال والحرام، ج 2، ص 92، ط:دار المعرفۃ،بیروت)۔
وفی البحر الرائق:ولا بأس بأكل دود الزيتون قبل أن تنفخ فيه الروح لأن إثم الميت إنما يطلق على من له روح إلخ۔ (الفصل فی الأکل والشرب، ج 8، ص 208، ط:دار الکتاب الاسلامی)۔
وفی الھندیۃ: أكل دود القز قبل أن ينفخ فيه الروح لا بأس به، كذا في الذخيرة إلخ۔ (الباب فی کراھۃ الأکل وما یتصل بہ، ج 5، ص 339، ط:دار الفکر)۔
وفی المدونۃ:قلت: أرأيت هوام الأرض كلھا خشاشھا وعقاربھا ودودها وحياتھا، وما أشبه هذا من هوامھا أيؤكل في قول مالك؟ قال: سمعت مالكا يقول في الحيات إذا ذكيت في موضع ذكاتھا: إنه لا بأس بأكلھا لمن احتاج إليھا، قال: ولم أسمع من مالك في هوام الأرض شيئا، إلا أني سمعت مالكا يقول في خشاش الأرض كله: أنه إذا مات في الماء أنه لا يفسد الماء والطعام، وما لم يفسد الماء والطعام فليس بأكله بأس إذا أخذ حيا فصنع به ما يصنع بالجراد، وأما الضفادع فلا بأس بأكلھا وإن ماتت لأنھا من صيد الماء، كذلك قال مالك۔ قال: ولقد سئل مالك عن شيء يكون في المغرب يقال له الحلزون يكون في الصحارى يتعلق بالشجر أيؤكل؟قال: أراه مثل الجراد ما أخذ منه حيا فسلق أو شوي فلا أرى بأكله بأسا، وما وجد منه ميتا فلا يؤكل إلخ۔ (کتاب الذبائح، ج 1، ص 542، ط:دار الکتب العلمیۃ)۔
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0