میرا حج پر جانے کا ارادہ ہے، تو کیا عید قربان کی قربانی پاکستان میں کر سکتے ہیں یا حج کی قربانی کے ساتھ عید کی قربانی بھی وہیں کرنی ہوگی؟
جو حجاجِ کرام حج قران یا حج تمتع کی ادائیگی کرتے ہیں ، تو ان کے ذمہ دمِ شکرکے طورپر حدودِ حرم میں ایک قربانی کرنالازم ہے ، اور یہ قربانی دمِ شکرکہلاتی ہے ، جو واجب قربانی کے علاوہ ہوتی ہے ، البتہ جوحجاج کرام وہاں مکہ مکرمہ میں پندرہ یا اس سے زائد دن قیام کریں ، اور وہ صاحبِ نصاب بھی ہوں ، تواس پر دمِ شکرکے علاوہ الگ قربانی بھی واجب ہوگی ، جس کی ادائیگی خواہ وہاں کریں یا یہاں ان کی طرف سے قربانی کی جائے ، تاہم جو حجاجِ کرام وہاں پندرہ دن سے کم قیام کریں، یا وہ صاحبِ نصاب نہ ہوں تو ان کے ذمہ حج میں کی جانے والی قربانی (دم شکر) کے علاوہ کوئی اور قربانی لازم نہیں،نیزاگر وہ حج افراد کرنے والا ہو،تو ا س پر اس دم شکر کی ادائیگی بھی لازم نہ ہوگی،مگر قربانی کرلینا ایسی صورت میں بھی زیادہ افضل وبہتر ہے۔
کما فی رد المحتار:(قوله لأنه مفرد) تعليل لما استفيد من التخيير بقوله إن شاء والذبح له أفضل، ويجب على القارن والمتمتع وأما الأضحية فإن كان مسافرا فلا يجب عليه وإلا كالمكي فتجب كما في البحر اھ(کتاب الحج،ج:2،ص:515،ط:سعید)
وفی الهندية: ویجب الدم علی المتمتع شکراً لما انعم اللہ تعالی علیہ (إلی قوله) وحکم القارن کحکم المتمتع في وجوب الهدي إن وجده۔الخ(کتاب الحج، الباب السابع في القران و التمتع،ج:1،ص:239،ط:ماجدیۃ)
وفي بدائع الصنائع:ومنها: الإقامة فلا تجب على المسافر؛ لأنها لا تتأدى بكل مال ولا في كل زمان، بل بحيوان مخصوص في وقت مخصوص، والمسافر لا يظفر به في كل مكان في وقت الأضحية، فلو أوجبنا عليه لاحتاج إلى حمله مع نفسه، وفيه من الحرج ما لا يخفى، أو احتاج إلى ترك السفر، وفيه ضرر، فدعت الضرورة إلى امتناع الوجوب، بخلاف الزكاة؛ لأن الزكاة لا يتعلق وجوبها بوقت مخصوص بل جميع العمر وقتها، فكان جميع الأوقات وقتاً لأدائها، فإن لم يكن في يده شيء للحال يؤديها إذا وصل إلى المال، وكذا تتأدى بكل مال، فإيجابها عليه لا يوقعه في الحرج، وكذلك صدقة الفطر ؛ لأنها تجب وجوباً موسعاً كالزكاة، وهو الصحيح;وعند بعضهم وإن كانت تتوقف بيوم الفطر لكنها تتأدى بكل مال، فلا يكون في الوجوب عليه حرج، وذكر في الأصل وقال ولا تجب الأضحية على الحاج وأراد بالحاج المسافر فأما أهل مكة فتجب عليهم الأضحية وإن حجوا۔الخ(کتاب التضحیۃ،ج:5،ص:63،ط: سعید)
وفی البحر الرائق : ( قوله ثم اذبح) أي على وجه الأفضلية؛ لأن الكلام في المفرد وهو ليس بواجب عليه، وإنما يجب على القارن والمتمتع، وأما الأضحية فإن كان مسافرا فلا أضحية عليه، وإلا فعليه كالمكي۔الخ(کتاب الحج،ج:2،ص:346،ط:رشیدیۃ)۔