آج کل انٹرنیٹ پر ایک بحث چل رہی ہے کہ سردیوں میں جو کافی پی جاتی ہے، اس میں کاکروچ (لال بیگ) کا مادہ ملایا جاتا ہے،اس بارے میں جامعہ کی کیا تحقیق ہے؟اور کیا ایک مسلمان کے لیے اس کا استعمال جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ جن چھوٹے کیڑوں میں بہنے والا خون نہیں ہوتا، ان کے محض زندہ حالت میں کھانے یا پینے کی کسی چیز میں گرنے سے وہ چیز ناپاک نہیں ہوتی ،اوراس کیڑے کونکالنے کے بعداس کھانے کواستعمال میں لانے کی گنجائش ہے اگرچہ طبی مضرات کومدنظررکھتےہوئے اس کااستعمال میں نہ لانا زیادہ بہترہے،لیکن اگراس قسم کے کیڑوں کوباقاعدہ کھانےپینے کی اشیاء میں بطوراجزائے ترکیبی شامل کیاجائے تواس صورت میں ان اشیاء کاکھانا،پیناجائزنہیں رہتا،اس لیے اگرواقعۃ تحقیق سے کافی میں کاکروچ کے مادہ کی ملاوٹ ثابت ہوجائے تواس کاکروچ ملی کافی پینےسےاجتناب لازم ہے۔
کما فی الفتاوى الهندية: الحيوان في الأصل نوعان: نوع يعيش في البحر ونوع يعيش في البر، أما الذي يعيش في البحر فجميع ما في البحر من الحيوان يحرم أكله إلا السمك خاصةً فإنه يحل أكله إلا ما طفا منه، وأما الذي يعيش في البر فأنواع ثلاثة: ما ليس له دم أصلا وما ليس له دم سائل وما له دم سائل، فما لا دم له مثل الجراد والزنبور والذباب والعنكبوت والخنفساء والعقرب والببغاء ونحوها لا يحل أكله إلا الجراد خاصة، وكذلك ما ليس له دم سائل مثل الحية والوزغ وسام أبرص وجميع الحشرات وهو أم الأرض من الفأر والجراد والقنافذ والضب واليربوع وابن عرس ونحوها ولا خلاف في حرمة هذه الأشياء إلا في الضب فإنه حلال عند الشافعي - رحمه الله تعالى، (الباب الثاني في بيان ما يؤكل من الحيوان وما لا يؤكل، ج:2، ص:289)-
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0