عنوان: نیٹ ورک مارکیٹنگ کمپنی (FLP) کے بزنس ماڈل پر شرعی رہنمائی اور فتویٰ کی درخواست محترم مفتی صاحب، امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میں ایک کاروباری نظام (Marketing Plan) میں شامل ہونے کا ارادہ رکھتا ہوں، لیکن رزقِ حلال کی فکر کے پیشِ نظر آپ سے شرعی رہنمائی کا طالب ہوں۔ ذیل میں کمپنی (Forever Living Products) کا مکمل طریقہ کار تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ 1۔ کام کی نوعیت اور CC سسٹم: کمپنی حقیقی مصنوعات (ایلو ویرا اور شہد) بیچتی ہے۔ ہر پروڈکٹ کے مخصوص پوائنٹس (CC) ہوتے ہیں۔ 1 CC تقریباً 17,000 سے 18,000 روپے کی خریداری پر مشتمل ہے۔ تمام رینکس ان پوائنٹس کو جمع کرنے سے ملتے ہیں۔ 2۔ شمولیت اور رینکس: شمولیت کی فیس نہیں ہے، مگر کام شروع کرنے کے لیے پروڈکٹ خریدنا لازمی ہے۔ 2 CC کی خریداری پر بندہ "Assistant Supervisor" بن جاتا ہے اور اسے 30فیصد ڈسکاؤنٹ ملتا ہے۔ مینیجر لیول تک پہنچنے کے لیے ٹیم کی سیلز (Group CC) کا سہارا لیا جاتا ہے۔ 3۔ آمدنی اور کمیشن کا طریقہ (اہم ترین): براہِ راست کمیشن: جب میں کسی نئے فرد کو اپنے نیچے جوائن کرواتا ہوں، تو اس کی ہر خریداری پر مجھے25% سے 43%تک کمیشن ملتا ہے۔ وہ شخص جب بھی اور جتنی بار بھی خریداری کرے گا، مجھے یہ کمیشن ملتا رہے گا۔ ان ڈائریکٹ کمیشن: میری ٹیم کے نیچے جب مزید لوگ شامل ہوتے ہیں، تو ان کی سیلز پر بھی مجھے 3فیصد سے 13فیصد تک کمیشن ملتا ہے (بشرطیکہ میں خود ایکٹو رہوں)۔ ایکٹو رہنے کی شرط : CC4ٹیم کا کمیشن لینے کے لیے مجھ پر لازم ہے کہ میں ہر ماہ 4 CC کا کام (جس میں 1 CC کی ذاتی خریداری شامل ہے) خود کروں۔ اگر میں یہ ٹارگٹ پورا نہ کروں تو ٹیم کی سیلز کا کمیشن مجھے نہیں ملے گا۔ 4۔ مصنوعات کی قیمت: مصنوعات کی قیمت مارکیٹ کی عام مصنوعات سے زیادہ ہے، تاکہ یہ بھاری کمیشن اوپر کے تمام لیولز میں تقسیم کیے جا سکیں۔ مطلوبہ سوالات: کیا کسی شخص کی خریداری پر مستقل 25فیصد سے 43فیصد کمیشن وصول کرنا شرعاً درست ہے؟ کیا ٹیم کی محنت پر کمیشن لینا (جبکہ میں اس مخصوص سودے میں شامل نہ ہوں) "اجرت" کہلائے گا یا یہ ناجائز نفع ہے؟ کیا ٹیم کا کمیشن حاصل کرنے کے لیے 4CC کی ذاتی خریداری کی شرط لگانا "بیع بشرط" کے زمرے میں آتا ہے؟ کیا یہ پورا نظام "ملٹی لیول مارکیٹنگ" کے ان اصولوں پر مبنی ہے جنہیں علماءِ کرام نے ممنوع قرار دیا ہے؟ براہِ کرم اس پر تفصیلی فتویٰ صادر فرمائیں تاکہ میں اور میرے جیسے کئی نوجوان مشتبہ آمدنی سے بچ سکیں۔ طالبِ دعا،طلحہ سلیم، فیصل آباد/03137150992۔ اگر ویڈیو شکل میں بھی مارکیٹنگ پلان چاہیے وہ بھی نیچے دے رہا ہوں https://youtu.be/AVoPVjL77Vs?si=8vOvITACixSnjPqG
ہماری معلومات کے مطابق نیٹ ورک مارکیٹنگ (Netwok Marketing) یا ملٹی لیول مارکیٹنگ کے طریقہ کارپر بہت ساری کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جبکہ اس میں عموماً مصنوعات کی خرید و فروخت اصل مقصد نہیں ہوتی، بلکہ ممبر سازی کے ذریعے کمیشن در کمیشن کا روبار چلانا اصل مقصد ہوتاہے، جو کہ جوئے کی ایک نئی شکل ہے، نیز مذکور طرز کےکاروبار میں دیگر بہت سارے مفاسد موجود ہیں ، لہٰذا سوال میں ذکر کردہ کمپنی (forever living) کا کاروبار بھی چونکہ اس طریقہ کار کے مطابق ہو تا ہےتوسائل کےلئے مذکور کمپنی میں کاروبار کرنا شرعاً جائز نہیں ، بلکہ اس سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی القرآن المجید: (یٰأیؔھا الذین آمنوا إنما الخمر و المیسر و الأنصاب و الأزلام رجس من عمل الشیطٰن فاجتنبوہ لعلکم تفلحون) الآیۃ۔ (سورۃ المائدۃ، آیت نمبر: 90)۔
و فی أحکام القرآن للجصاص: قال اللہ تعالیٰ (إنما الخمر و المیسر و الأنصاب و الأزلام رجس من عمل الشیطٰن فاجتنبوہ) (إلی قولہ) و أما المیسر فقد روی عن علی أنہ قال الشطرنج من المیسر و قال عثمان و جماعۃ من الصحابۃ و التابعین النرد و قال قوم من أھل العلم القمار کلہ من المیسر و أصلہ من تیسیر أمر الجزور بالاجتماع علی القمار فیہ و ھو السھام التی یجیلونھا فمن خرج سھمہ استحق منہ ما توجبہ علامۃ السھم فربما أخفق بعضھم حتی لا یحظی بشئ و ینجح البعض فیحظی بسھم الوافر و حقیقتہ تملیک المال علی المخاطرۃ۔ و ھو أصل فی بطلان عقود التملیکات الواقعۃ علی الاخطار کالھبات و الصدقات و عقود البیاعات و نحوھا إذا علقت علی الاخطار بأن یقول قد بعتک إذا قدم زید و وھبتہ لک إذا خرج عمرو لأن معن إیسار الجزور أن یقول من خرج سھمہ استحق من الجزور کذا فکان استحقاقہ لذالک السھم منہ معلقا علی الخطر (إلی قولہ) (رجس من عمل الشیطان) فإن الرجس ھو الذی یلزم اجتنابہ إما لنجاستہ و إما لقبح ما یفعل بہ من عبادۃ أو تعظیم (إلی قولہ) و إنما قال تعالیٰ (من عمل الشیطان) لأنہ یدعو إلیہ و یأمر بہ فأکد بذالک أیضا حکم تحریمھا إذ کان الشیطان لا یأمر إلا بالمعاصی و القبائح و المحرمات (إلی قولہ) قولہ تعالیٰ (إنما یرید الشیطان أن یوقع بینکم العداوۃ و البغضاء فی الخمر و المیسر) الآیۃ فإنما یرید بہ ما یدعو الشیطان إلیہ و یزینہ من شرب الخمر (إلی قولہ) فیؤدی ذالک إلی العداوۃ و البغضاء و کذالک القمار یؤدی إلی ذالک قال قتادۃ کان الرجل یقامر فی مالہ و أھلہ فیقمر و یبقی حزینا سلیبا فیکسبہ ذالک العداوۃ و البغضاء إلخ۔ (باب تحریم الخمر، ج 2، ص 461۔466، ط: سہیل أکیڈمی)۔
وفی الموسوعة الفقھية: وقال ابن حجر المكّي : الميسر : القمار بأيّ نوع كان، وقال المحلّي: صورة القمار المحرّم التّردد بين أن يغنم وأن يغرم إلخ۔ ( ج 41، ص 375)۔
وفى الشاميۃ: قال في التتارخانية وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعواعليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليھم وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة إلخ۔ (کتاب الاجارۃ،ج 6، ص 63، ط: سعید)۔