السلام علیکم ورحمۃ الله وبرکاتہ ! میں سعودی عرب (ریاض) سے ہوں۔ میرا سوال یہ ہے کہ آج کل مختلف کمپنیاں ”نیٹ ورک مارکیٹنگ / ایم ایل ایم (Multi Level Marketing)“ کے نام سے کاروبار کر رہی ہیں، جیسے Forever Living وغیرہ، ان کمپنیوں کا طریقۂ کار یہ ہے کہ جو شخص نیا ممبر بناتا ہے اور نیچے ٹیم تیار کرتا ہے، تو اس کے اوپر والے سپروائزر یا مینجر کو بھی اس ٹیم کی کارکردگی کے حساب سے نفع ملتا ہے، نیز اس میں یہ شرط بھی رکھی جاتی ہے کہ اگر فلاں ”ٹارگٹ (مثلاً 4CC)“ پورا نہ ہو تو اوپر والے کو بھی نفع نہیں ملے گا۔ میری درخواست ہے کہ حضرت والا اس نظام کے بارے میں مفصل شرعی حکم بیان فرما دیں اور اگر ممکن ہو تو اس کا باقاعدہ فتویٰ اردو زبان میں پی ڈی ایف (PDF) کی شکل میں مہر اور دستخط کے ساتھ ارسال فرما دیں، تاکہ میں اور میرے ساتھی اس سلسلے میں تسلی حاصل کرسکیں۔ جزاکم اللہ خیراً
صورتِ مسئولہ میں مذکور طریقہ کار کو نیٹ ورک مارکیٹنگ کہا جاتا ہے، جس میں کمپنیوں کا اصل مقصد کاروبار کرنا نہیں ہوتا ہے، بلکہ کمپنی کو اپنی تشہیر کے لئے زیادہ سے زیادہ ممبرز اور سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لئے کمپنی لوگوں سے مخصوص رقم لیکر اس چین کا حصہ بنالیتی ہے اور مزید لوگوں کو شامل کرنے کے لئے انہیں ایک لنک دیا جاتا ہے، پھر اگر کوئی شخص اس پرانے ممبر کے توسط سے اس چین کا حصہ بنتا ہے، تو اس کی رقم سے پرانے ممبر کو کمیشن دیا جاتا ہے، اور یہ سلسلہ کمیشن در کمیشن چلتا رہتا ہے، لیکن اگر کوئی ممبر مزید لوگوں کو شامل کرنے میں ناکام رہے، تو اس کو کمیشن کی صورت میں منافع بھی نہیں ملتا، یہ طریقہ کار شرعاً غرر اور قمار کی ایک صورت ہے۔
اسی طرح اس بلاک چین میں کمپنی اور ممبر کے درمیان ہونے والے معاملے کی حیثیت اور نوعیت کی کوئی وضاحت بھی نہیں ، بلکہ ایک مجہول عقد کے نتیجے میں اسے نفع مل رہا ہوتا ہے اور اس کمپنی میں بالواسطہ ممبرز بننے والوں کے عمل سے ماقبل کے ممبر کو بغیر کسی محنت وعمل کے منافع بھی مل رہا ہوتا ہے، جو شرعاً جائز نہیں۔لہذا اس نیٹ ورکنگ بلاک چین کا حصہ بننا جائز نہیں، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
قال اللہ سبحانہ و تعالی :﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْأَنْصَابُ وَ الْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾.(سورۃ : المائدة ، آیت : 90)۔
وفی صحیح البخاری: عن النعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ قال: قال النبی ﷺ الحلال بین والحرام بین وبینھما امور مشتبھۃ فمن ترک ما شبہ علیہ من الإثم کان لما استبان لہ اترک ومن اجترأ علی ما یشک فیہ من الإثم أوشک أن یواقع ما استبان والمعاصی حمی اللہ من یرجع حول الحمی یوشک أن یواقعہ الخ (ج: 2،ص: 1000، باب الحلال بین و الحرام بین ، ط: البشرٰی)۔
وفی رد المحتارتحت: (قولہ لأنہ یصیر قمارا) لأن القمار من القمر الذی یزداد تارۃ و ینقص أخرٰی، و سمی القمار قمارا لأن کل واحد من المقامرین ممن یجوز أن یذھب مالہ إلی صاحبہ و یجوز أن یستفید مال صاحبہ و ھو حرام بالنص (إلی قولہ) لأن القمار ھو الذی یستوی فیہ الجانبان فی احتمال الغرامۃ علی ما بینا اھ الخ (کتاب الحظر و الإباحۃ، ج: 6، ص: 403، ط: ایچ ایم سعید)ـ