معاشی اسکیمز

حکومتی منظوری کے بعد کرپٹو کرنسی کا حکم

فتوی نمبر :
86056
| تاریخ :
2025-09-13
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / معاشی اسکیمز

حکومتی منظوری کے بعد کرپٹو کرنسی کا حکم

میرا سوال یہ ہے کہہ اب جب کہہ حکومت پاکستان نے کرپٹو کرنسی کی زمہ داری لے لی ہے اور کچھ ممالک میں اس کے ذریعہ لوگ ٹیکس ادا کرتے ہیں اور کچھ ممالک میں اس سے ٹکٹ خرید سکتے ہیں غرض یہ عام کرنسی کی طرح ہوگئی ہےتو اب اس کا کیا حکم ہے نئی تحقیق کے مطابق جواب مطلوب ہے

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

حکومت پاکستان کی طرف سے کرپٹو کرنسی کو قانونی حیثیت ملنا اس کی شرعی جواز کا واحد معیار نہیں ہے۔کیونکہ کرپٹو کرنسی کی موجودہ صورت میں مالی حیثیت غیر واضح ہے۔ اس میں قمار ، سٹے بازی اور دھوکہ دہی جیسے بڑے مفاسد موجود ہیں۔اس کی قیمت کا کوئی بنیادی یا فطری تعین نہیں ہوتا۔لہٰذا،اس میں خرید و فروخت یا سرمایہ کاری کرنا فی الحال مشتبہ ہے ۔البتہ اگر کرپٹو کرنسی ریاستی اجازت کے دائرے میں ہو اور شفاف طریقے سے استعمال ہو، سٹے بازی یا غیر شرعی غرض سے بچا جائے،اوراس کی قیمت کاکوئی بنیادی یافطری تعین ہوجائے تو اس صورت میں اس کا مشروط جواز ممکن ہے۔تاہم، قانونی حیثیت طے ہونےکے بعد بھی شرعی حکم کا تعین اس کے استعمال، نیت اور دیگر شرائط کی روشنی میں قرآن وسنت کے وضع کردہ اصول وضوابط کے مطابق جانچنے کے بعدہی کیاجائے گا۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی المعجم الوسيط» : (‌النقد) (‌في ‌البيع) خلاف النسيئة ويقال درهم نقد جيد لا زيف فيه (ج) نقود والعملة من الذهب أو الفضة وغيرهما مما يتعامل به وفن تمييز جيد الكلام من رديئه وصحيحه من فاسده»(2/ 944)
و فی مجلة البحوث الإسلامية» :«تعريف النقد
يقول علماء الاقتصاد: ‌إن ‌للنقد ‌ثلاث ‌خصائص متى توفرت في مادة ما اعتبرت هذه المادة نقدا.
الأولى: أن يكون وسيطا للتبادل.
الثانية: أن يكون مقياسا للقيم.
الثالثة: أن يكون مستودعا للثروة.
وعلى هذا الأساس قيل إن النقد هو أي شيء يلقى قبولا عاما كوسيط للتبادل مهما كان ذلك الشيء وعلى أي حال يكون، وفي أقوال بعض أهل العلم الشرعي، ما قد يؤيد هذا التعريف، ففي المدونة الكبرى ما نصه:
ولو أن الناس أجازوا بينهم الجلود حتى يكون لها سكة وعين لكرهتها أن تباع بالذهب والورق نظرة. اهـ»(1/ 200)
و فی فتوح البلدان» : حدثنا عمرو الناقد، قال: حدثنا إسماعيل بن إبراهيم، قال: حدثنا يونس بن عبيد عن الحسن، قال كان الناس وهم أهل كفر قد عرفوا موضع هذا الدرهم من الناس فجودوه وأخلصوه، فلما صار إليكم غششتموه وأفسدتموه. ولقد كان عمر بن الخطاب قال: ‌هممت ‌أن ‌أجعل الدراهم من جلود الإبل فقيل له إذا لا بعير فأمسك.»(ص452)
و فی الموسوعة الفقهية الكويتية» :حق إصدار النقود هو للإمام وحده، ولا بد له من تفويض من يقوم بهذه الوظيفة ليتميز الخالص من المغشوش في المعاملات، ويتقى الغش فيها بختم السلطان عليها بالنقش المعروف. وينبغي أن تكون بعيار محدد وأوزان محددة ليمكن التعامل بها عددا، كما حصل في عهد عبد الملك بن مروان.(41/ 178)
ولا يجوز لغير الإمام ضرب النقود؛ لأن في ذلك افتياتا عليه.
ويحق للإمام تعزير من افتات عليه فيما هو من حقوقه، وسواء كان ما ضربه مخالفا لضرب السلطان، أو موافقا له في الوزن ونسبة الغش، وفي الجودة حتى لو كان من الذهب والفضة الخالصين، قال الإمام أحمد في رواية جعفر بن محمد: لا يصلح ضرب الدراهم إلا في دار الضرب بإذن السلطان؛ لأن الناس إن رخص لهم ركبوا العظائم. قال القاضي أبو يعلى: فقد منع من الضرب بغير إذن السلطان لما فيه من الافتيات عليه
وينبغي للإمام ضرب الفلوس ليتمكن الناس من إنفاقها في الحاجات الصغيرة التي هي أقل من قيمة الدرهم، والعادة أن تضرب من النحاس أو غيره من المعادن التي تحتمل كثرة الاستعمال، قال ابن تيمية: ينبغي للإمام أن يضرب للرعايا فلوسا تكون بقيمة العدل في معاملاتهم من غير ظلم لهم تسهيلا عليهم وتيسيرا لمعاملاتهم.
ومقصوده بقيمة العدل أن تكون قيمتها بقدر ما فيها من النحاس لتكون قيمتها ذاتية.
و فی الموسوعة الفقهية الكويتية» :«‌من ‌المصالح العامة للمسلمين التي يجب على الإمام رعايتها المحافظة على استقرار أسعار النقود من الانخفاض؛ لئلا يحصل بذلك غلاء الأقوات والسلع وينتشر الفقر، ولتحصل الطمأنينة للناس بالتمتع بثبات قيم ما حصلوه من النقود بجهدهم وسعيهم واكتسابهم؛ لئلا تذهب هدرا ويقع الخلل والفساد.(41/ 196)
و فی إعلام الموقعين عن رب العالمين»: والثمن هو المعيار الذي به ‌يعرف ‌تقويم الأموال، فيجب أن يكون محدودا مضبوطا لا يرتفع ولا ينخفض؛ إذ لو كان الثمن يرتفع وينخفض كالسلع لم يكن لنا ثمن نعتبر به المبيعات، بل الجميع سلع، وحاجة الناس إلى ثمن يعتبرون به المبيعات حاجة ضرورية عامة، وذلك لا يمكن إلا بسعر تعرف به القيمة، وذلك لا يكون إلا بثمن تقوم به الأشياء، ويستمر على حالة واحدة، ولا يقوم هو بغيره؛ إذ يصير سلعة يرتفع وينخفض، فتفسد معاملات الناس، ويقع الخلف، ويشتد الضرر.» (2/ 105 ط العلمية)
و فی مجموع الفتاوى»: وأما الدرهم والدينار فما يعرف له حد طبعي ولا شرعي بل مرجعه إلى العادة والاصطلاح؛ وذلك لأنه في الأصل لا يتعلق المقصود به؛ بل الغرض أن يكون معيارا لما يتعاملون به والدراهم والدنانير ‌لا ‌تقصد ‌لنفسها بل هي وسيلة إلى التعامل بها ولهذا كانت أثمانا؛ بخلاف سائر الأموال فإن المقصود الانتفاع بها نفسها؛ فلهذا كانت مقدرة بالأمور الطبعية أو الشرعية والوسيلة المحضة التي لا يتعلق بها غرض لا بمادتها ولا بصورتها يحصل بها المقصود كيفما كانت. (19/ 251)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد سعد جاوید عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 86056کی تصدیق کریں
0     12
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کرپٹو کرنسی میں سپاٹ ٹریڈنگ کا حکم - future or spot trading

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   معاشی اسکیمز 14
  • ٹیلی نار کی سم لگاؤ آفر کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   معاشی اسکیمز 0
  • ایزی پیسہ اکاؤنٹ پر چارجز وصول کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   معاشی اسکیمز 4
  • کیش بیک کی رقم کس کی ملکیت شمار ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   معاشی اسکیمز 0
  • "ٹورن کرپٹو کرنسی" کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • این آر جی کمپنی میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • اپنی سیونگ کو کس طرح محفوظ کیاجاسکتاہے؟

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • اسٹاک مارکیٹ اور فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • نیٹ ورک مارکیٹنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 2
  • نیشنل بینک کے" اعتماد ماہانہ بچت اکاؤنٹ" کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • سافٹ ویئر انجینئیر کا بینک کیلئے ویب سائٹ بنانا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • آنلائن ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 2
  • ڈراپ شپنگ - بغیر قبضہ کئے چیز کو فروخت کرنا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 3
  • تکافل پروگرامز میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • "بائے ون گیٹ ون فری " (ایک چیز کی خریداری پر دوسری مفت) اسکیم کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • "گوگل ایڈورڈ" کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • "فارسیج " نام کے کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • انشورنس والوں کو ویب سائٹ بنا کر دینا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • سوشل میڈیا کے ذریعے پیسے کمانا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • Ruling on Investment in Digital Currency

    یونیکوڈ   انگلش   معاشی اسکیمز 0
  • How is it to trade on Digital Currency

    یونیکوڈ   انگلش   معاشی اسکیمز 0
  • "الفاچیٹ جی پی ڈی" ویب سائٹ کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • فری لانسنگ میں کام کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • آنلائن بی سی میں سروس چارج کے نام پر پیسے لینا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
Related Topics متعلقه موضوعات