محترم مفتی صاحب السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ
میرا سوال یہ ہے کہ اگر میں کسی سپلائر (چائنا، علی ایکسپریس یا کسی مقامی ہول سیلر) کے ساتھ یہ طے کر لوں کہ وہ مجھے کوئی پراڈکٹ کسی خاص ہول سیل قیمت (مثلاً 5 ڈالر) پر دے گا، اور پھر میں اپنی آن لائن شاپ (Shopify Store) پر وہی پراڈکٹ زیادہ قیمت (مثلاً 15 ڈالر) پر لگا دوں، تو جب کوئی خریدار مجھ سے آرڈر کرے گا،توخریدار مجھے پوری قیمت (مثلاً 15 ڈالر) ادا کرے گا،میں اس میں سے سپلائر کو اس کی طے شدہ قیمت (5 ڈالر) دے دوں گا،سپلائر براہِ راست وہ پراڈکٹ خریدار کو بھیج دے گا،باقی بچا ہوا منافع (10 ڈالر) میرا ہوگا،کیا اس صورت میں میرا یہ منافع لینا شرعاً جائز ہوگا؟اور کیا یہ وکالت/ایجنٹ کے اصول کے مطابق درست ہے؟براہِ کرم تفصیل کے ساتھ رہنمائی فرمائیں۔جزاکم اللہ خیراً
واضح ہو کہ خرید و فروخت کے شرعاً جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے، وہ اسکی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو ، اور اگر وہ کسی ایسی چیز کو بیچتا ہے ،جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے، تو بیع درست نہیں ہوتی، بلکہ باطل اور کالعدم شمار ہوتی ہے۔لہذا سوال میں ذکر کردہ ڈراپ شپنگ کا کاروبار کرنے والے کا حسی یا معنوی طور پر کوئی ایسا اسٹور موجود نہیں ہوتا ،جس میں وہ سامان کا اسٹاک رکھے ، اس لئے جب وہ کوئی چیز اپنے گاہک کو بیچتا ہے، وہ عقد کے وقت اسکی ملکیت میں نہیں ہوتی، بلکہ خریداری کا معاہدہ ہو جانے کے بعد purchase کر کے یعنی خرید کر گاہک کو دیدیتا ہے ، لہذا غیر مملوک کی بیع ہونے کی بناء پر مذکورمعاملہ شرعاً درست نہیں ،جس سے احتراز لازم ہے،البتہ اس کے جواز کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں۔
(الف) ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ڈراپ شپنگ کا کاروبار کرنے والا (سائل) معاملہ کی ابتداء میں اپنے گاہک کو یہ نہ کہے کہ یہ چیز میں آپ کو بیچ رہا ہوں، بلکہ یہ کہے کہ یہ چیز بیچنے کا معاہدہ کرتا ہوں، اس طرح یہ بیع نہیں ،بلکہ وعدۂ بیع ہو جاتا ہے، اور اسوقت رقم لینا ہامش جدیہ (پیشگی ادائیگی )کے طور پر درست ہوگا، پھر وہ ہول سیلر / دکاندار سے مطلوب آئٹم خرید کر خود یا وکیل کے ذریعہ حسی یا معنوی قبضہ میں اس طور پر لے کہ وہ سائل کے ضمان (risk) میں آجائے ، تب وہ خریدار کو فروخت کر کے ڈلیور کر دے۔
(ب) دوسری جائز متبادل صورت وکالت / دلال (brokerage) کی ہے کہ سائل گاہک سے آرڈر لے اور مطلوبہ چیز ہول سیلر یاد کاندار کے توسط سے گاہک تک پہنچادے اور سائل اپنی محنت کی طے شدہ اجرت لے،تو اس صورت میں اصل بائع وہ ہول سیلر / دکاندار ہوگا اور سائل کی حیثیت ایک وکیل یا (middle man) کی ہوگی، جو شریعت میں ایک قابل عوض محنت ہے جس پر مقررہ متعین اجرت لینا شرعاً جائز ہے۔
کما فی الھدایۃ : قال ولا يجوز بيع السمك قبل أن يصطاد لأنه باع ما لا يملكه ولا في حظيرة إذا كان لا يؤخذ إلا بصيد لأنه غير مقدور التسليم ومعناه إذا أخذه ثم ألقاه فيها ولو كان يؤخذ من غيره حيلة جاز إلا إذا اجتمعت فيها بأنفسها ولم يسد عليها المثل لعدم الملك قال ولا بيع الطير في الهواء لأنه غير مملوك قبل الأخذ وكذا لو أرسله من يده لأنه غير مقدور التسليم الخ(باب البيع الفاسد،ج 3، ص 43،ط: الإسلامية)۔
و فی الدر المختار: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية الخ
و فی الشامیۃ تحت : قوله: يعتبر العرف فتجب الدلالة على البائع او المشترى او عليهما بحسب العرف جامع الفصولين اهـ الخ( کتاب البیوع،فرع ظهر بعد نقد الصراف أن الدراهم زيوف،ج 4، ص 560،ط: سعید)۔