معاشی اسکیمز

فارسیج کمپنی کے ذریعہ نیٹ مارکٹنگ کا حکم

فتوی نمبر :
85412
| تاریخ :
2025-08-19
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / معاشی اسکیمز

فارسیج کمپنی کے ذریعہ نیٹ مارکٹنگ کا حکم

کیا فورسیج کمپنی کی نیٹ ورک مارکیٹنگ حلال ہے؟ مجھے ایک فتوی (26914) تاریخ 2024/6/12 کو آپ کی ویب سائٹ سے ملا ہے برائے مہربانی مجھے یہ بتا دیں یہ حلال ہے یا حرام؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سائل نے سوال میں جس فتوی ( سیریل نمبر 26914) کا حوالہ دیاہے،اس سیریل نمبرپر ”فورسیج “ نامی کاروبار کے متعلق دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ سے کوئی فتوی جاری نہیں ہوا، اور نہ ہی اس کے علاوہ فورسیج کے جواز سے متعلق دارالافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ سے کوئی فتوی جاری ہواہے، بلکہ اس سیریل نمبرپر تکافل سے متعلق پوچھے گئے سوال کا جواب جاری ہواہے، جس میں کچھ ناعاقبت اندیش لوگوں نے فوٹو شاپ وغیرہ کے ذریعہ ردوبدل (Editing) کرکے اس جعلی فتوی کو دارلافتاء جامعہ بنوریہ عالمیہ کی طرف منسوب کرکے اپنے مذموم مقاصد کے حصول کے لیے اس کو استعمال کیا اور عوام میں اس کی تشہیر کی ، جو کہ نہ صرف یہ کہ اخروی پکڑ کا باعث ہے، بلکہ قانونا بھی ایک قابل مواخذہ جرم ہے، لہذا حکومتی مقتدر حلقوں کو چاہیے کہ اپنے فرائض منصبی کو ملحوظ رکھتے ہوئے اس طرح کے جعلسازوں کے خلاف ضابطے کی کاروائی عمل میں لائیں تاکہ ان مذموم حرکات کی روک تھام کویقینی بنایاجاسکے اور عوام کو بھی چاہیے کہ بلاتحقیق اس طرح کے جعلی فتوؤں کی تشہیر کرکے غیردانستہ طورپران جعلسازوں کے مذموم مقاصد کے حصول کا ذریعہ نہ بنیں۔
جبکہ فورسیج نامی کاروبارسے متعلق اب تک جو معلومات موصول ہوئی ہیں، اس سے معلوم ہوتاہے کہ یہ ایک”ملٹی لیول مارکیٹنگ“ کے تحت چلنے والا ایک نظام ہے، جس کا بنیادی مقصد کسی پروڈکٹ (کرنسی وغیرہ) کی خریدفروخت اور کاروبار کرنا نہیں ہوتا، بلکہ محض ممبرشپ کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس چین میں شامل کرکے ان سے سرمایہ اکٹھا کرناہے، جس کے لیے ممبران کو” نیٹ ورک مارکیٹنگ“ کے طریقہ کارپر ڈاؤن چین میں شامل ہونے والوں کی رقم سے کمیشن کی لالچ دیکر کمپنی کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جاتی ہے۔چنانچہ فورسیج نامی کاروبار کے طریقہ کا پر غور وفکر کے بعد معلوم ہوتاہے کہ اس میں درج ذیل مفاسد پائے جاتے ہیں۔
1۔ فورسیج نامی کاروبار میں درحقیقت مصنوعات کی خریدفروخت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے ممبر بننے والوں کا یہ مقصد ہوتاہے، بلکہ کمپنی کو اپنی تشہیر کے لیے زیادہ سے زیادہ ممبرز اور سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لیے کمپنی لوگوں سے مخصوص رقم لیکر اس چین کا حصہ بنالیتی ہے اور مزید لوگوں کو شامل کرنے کے لیے انہیں ایک لنک دیاجاتاہے، پھر اگرکوئی شخص اس پرانے ممبرکے توسط سے اس چین کا حصہ بنتاہے، تو اس کی رقم سے پرانے ممبر کو کمیشن دیاجاتاہے، اور یہ سلسلہ کمیشن درکمیشن چلتا رہتاہے، لیکن اگر کوئی ممبر مزید لوگوں کو شامل کرنے میں ناکام رہے، تو اس کو کمیشن کی صورت میں منافع بھی نہیں ملتا، جو کہ غرر اور قمارکی ایک صورت ہے۔
2۔ اس بلاک چین میں کمپنی اور ممبر کے درمیان ہونے والے معاملے کی حیثیت اور نوعیت کی کوئی وضاحت نہیں ، بلکہ ایک مجہول عقد کے نتیجے میں اسے نفع مل رہا ہوتاہے۔
3۔ اس کمپنی میں بالواسطہ ممبرز بننے والوں کے عمل سے ماقبل کے ممبرکو بغیر کسی محنت وعمل کے منافع مل رہاہے، جو شرعاجائز نہیں۔
لہذا فارسیج کمپنی میں محض ممبر سازی کے تحت لوگوں کو کمیشن کی لالچ دیکر ان سے سرمایہ اکھٹا کرنا ہی اصل مقصد ہے، کسی چیز کی خریدفروخت اور کاربار مقصود نہیں ، اس لیے اس کمپنی کا ممبر بننے یا دوسرے لوگوں کو اس اس میں شمولیت کی دعوت دینے سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما قال اللہ سبحانہ و تعالی :﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَ الْمَيْسِرُ وَ الْأَنْصَابُ وَ الْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾.(المائدة:90)۔
وفی أحکام القرآن للجصاص: و لا خلاف بین أہل العلم في تحریم القمار ، و أن المخاطرۃ من القمار ، قال ابن عباس : إن المخاطرۃ قمار ، و إن أہل الجاہلیۃ کانوا یخاطرون علی المال و الزوجۃ ، و قد کان ذلک مباحاً إلی أن ورد تحریمہ الخ ( ج: 1، ص: 398، ط: دارالکتب العلمیہ بیروت)۔
وفی الشامیۃ تحت: (قوله لأنه يصير قمارا) لأن ‌القمار ‌من ‌القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص الخ (فصل فی البیع، کتاب الحضر والإباحۃ، ج:6، ص: 403، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
عبدالعزیز رحیم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 85412کی تصدیق کریں
0     3
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کرپٹو کرنسی میں سپاٹ ٹریڈنگ کا حکم - future or spot trading

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   معاشی اسکیمز 14
  • ٹیلی نار کی سم لگاؤ آفر کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   معاشی اسکیمز 0
  • ایزی پیسہ اکاؤنٹ پر چارجز وصول کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   معاشی اسکیمز 4
  • کیش بیک کی رقم کس کی ملکیت شمار ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   معاشی اسکیمز 0
  • "ٹورن کرپٹو کرنسی" کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • این آر جی کمپنی میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • اپنی سیونگ کو کس طرح محفوظ کیاجاسکتاہے؟

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • اسٹاک مارکیٹ اور فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • نیٹ ورک مارکیٹنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 2
  • نیشنل بینک کے" اعتماد ماہانہ بچت اکاؤنٹ" کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • سافٹ ویئر انجینئیر کا بینک کیلئے ویب سائٹ بنانا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • آنلائن ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 2
  • ڈراپ شپنگ - بغیر قبضہ کئے چیز کو فروخت کرنا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 3
  • تکافل پروگرامز میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • "بائے ون گیٹ ون فری " (ایک چیز کی خریداری پر دوسری مفت) اسکیم کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • "گوگل ایڈورڈ" کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • "فارسیج " نام کے کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • انشورنس والوں کو ویب سائٹ بنا کر دینا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • سوشل میڈیا کے ذریعے پیسے کمانا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • Ruling on Investment in Digital Currency

    یونیکوڈ   انگلش   معاشی اسکیمز 0
  • How is it to trade on Digital Currency

    یونیکوڈ   انگلش   معاشی اسکیمز 0
  • "الفاچیٹ جی پی ڈی" ویب سائٹ کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • فری لانسنگ میں کام کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • آنلائن بی سی میں سروس چارج کے نام پر پیسے لینا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
Related Topics متعلقه موضوعات