میں نے "ٹاٹا میوچل فنڈ" کے تحت "ٹاٹا ایتھیکل فنڈ" میں سرمایہ کاری کی ہے۔ یہ فنڈ اپنے آپ کو شریعت کمپلائنٹ بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ سرمایہ صرف ان کمپنیوں میں لگایا جاتا ہے جو سودی بینکاری، شراب، جوا اور دیگر حرام کاروبار سے پاک ہوں، اور کمپنی کے قرض اور سودی آمدنی کی شرح بھی ایک مخصوص حد سے کم ہو۔(جیسا کہ شریعت کمپلائنٹ کہتا ہے)
سرمایہ کار کی رقم سے یہ فنڈ مختلف کمپنیوں کے شیئرز خریدتا ہے، اور ان شیئرز سے منافع اور قیمت میں اضافہ حاصل کرتا ہے نقصان کی حالت میں قیمت گھٹتا بھی ہے۔ فنڈ کی قیمت (Net Asset Value -NAV) روزانہ بدلتی رہتی ہے۔ اور یہ سرمایہ کبھی بھی واپس نکالا جاسکتا ہیں (Redeem Units) اور اس وقت کے حساب سے نفع یا نقصان ملتا ہے۔
میرا سوال یہ ہے کہ کیا اس فنڈ میں سرمایہ کاری شرعاً جائز ہے؟ براہ کرم اس کی شرعی حیثیت واضح فرمائیں۔
سائل نے جس کمپنی کا تذکرہ سوال میں کیا ہے، اس کے کاروباری طریقہ کار سے متعلق ہمیں مستند معلومات دستیاب نہیں۔ اگر واقعۃ مذکور کمپنی مستند علماء کرام پر مشتمل شریعہ بورڈ کی نگرانی میں، سوال میں درج طریقہ کار کے مطابق کام کر رہی ہو، تو اس کے شیئرز خرید کر اس سے نفع حاصل کرنا شرعاً جائز ہے۔البتہ اس میں سائل پریہ لازم ہوگا کہ جتنا حصہ سودی آمدنی یا ناجائز کاروبار سے تعلق رکھتا ہے، وہ حصہ منافع میں سے الگ کرکے بلا نیتِ ثواب صدقہ کردیا جائے۔