السلام علیکم! میں نے ایک دنبہ دیکھا ہے تاکہ اسے اس عید شریف کے موسم میں قربانی کروں۔ لیکن اس کی چکتی ( دم ) مکمل کٹی ہوئی ہے، اور باڑے والا کہتا ہے کہ دنبے میں اس کی چکتی کا کٹا ہونا اس جانور کی صلاح و بقاء کےلئے اہم امور میں سے ہے۔ اور یہ چکتی اور گوشت کا یہ ٹکڑا جب اس جانور کے آخر میں باقی رہے تو یہ بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔ اور یہ اس وجہ سے کہ یہ نجاست کی جگہ کے قریب ہے، اس سے اس کا خراب اثر جلدی آتا ہے، یہاں تک کہ اس جانور پر اس کی حیات فاسد ہوجاتی ہے۔ حقیقت میں یہ ایک علاج ہے۔ اور یہ ٹکڑا اس قسم کے تمام جانوروں میں موجود ہے۔ کیا اس طرح چکتی کٹے جانور کی قربانی جائز ہے؟ اور کیا اس طرح کاٹنا سبب صالح کے طور پر معتبر ہے یا شرع متین میں ممنوع ہونے کی وجہ سے حرام ہے؟
واضح ہوکہ دنبے میں اس کی چکتی کے نیچے جو چھوٹی سی دم ہوتی ہے قربانی کےلئے اس دم کا اعتبار نہیں ہوتا۔ لہٰذا دنبے کی یہ دم اگر پوری بھی کٹی ہوئی ہو، تو بھی اس کی قربانی جائز ہے۔ لیکن اگر کسی دنبے کی پوری چکتی ہی کاٹ دی گئی ہو، تو اس کی قربانی جائز نہیں۔ لہٰذا صورتِ مسؤلہ میں اگر اس دنبے کی چکتی کے نیچے والی دم کاٹ دی گئی ہے، تو اس سے اس کی قربانی پر اثر نہیں پڑتا، بلکہ ایسے جانور کی قربانی درست ادا ہوگی۔ البتہ اگر اس دنبے کی چکتی ہی مکمل یا ایک تہائی سے زائد کاٹ دی گئی ہو، تو اس کی قربانی شرعاً جائز نہ ہوگی۔ جبکہ اس حصہ کو کاٹنا جانور کےلئے مفید ہے یا نہیں، اس بارے میں اس فن کے ماہرین کی رائے لینا زیادہ مناسب معلوم ہوتا ہے۔
کما فی الدر المختار: ( لا بالعمیاء و العوراء و العجفاء ) ( إلی قولہ ) ( و مقطوع أکثر الأذن أو الذنب أو العین ) ( إلی قولہ ) ( أو ) أکثر ( الألیۃ ) لأن للأکثر حکم الکل بقاء و ذھابا فیکفی بقاء الأکثر ( إلی قولہ ) و لا التی لا ألیۃ لھا خلقۃ مجتبی إلخ
و فی الشامیۃ: تحت ( قولہ و لا التی لا ألیۃ لھا خلقۃ ) الشاۃ إذا لم یکن لھا أذن و لا ذنب خلقۃ۔ قال محمد: لا یکون ھذا و لو کان لا یجوز، و ذکر فی الأصل عن أبی حنیفۃ أنہ یجوز خانیۃ ثم قال: و إن کان لھا ألیۃ صغیرۃ مثل الذنب خلقۃ جاز أما علی قول أبی حنیفۃ فظاھر لأن عندہ لو لم یکن لھا أذن أصلا و لا ألیۃ جاز، و أما علی قول محمد صغیرۃ الأذنین جائزۃ، و إن لم یکن لھا ألیۃ و لا أذن خلقۃ لا یجوز إلخ( کتاب الأضحیۃ، ج 6، ص 323۔325، ط: سعید )۔
و فی المغنی لابن قدامۃ: و لا تجزئ ما قطع منھا عضو کالألیۃ و الأطباء إلخ
و فیہ أیضاً: و تجزئ الجماء و ھی التی لم یخلق لھا قرن و الصبعاء و ھی الصغیرۃ الأذن و التبراء و ھی التی لا ذنب لھا سواء کان خلقۃ أو مقطوعا إلخ ( کتاب الأضاحی، ج 11، ص 101۔102، ط: دار الکتاب و العربی )۔