السلا م علیکم !
مجھے آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ میر ا حق مہر کا زیور ہے جس کی مقدار سوا 2 تولہ ہے۔میں ایک ہاؤس وائف ہوں ،نوکری وغیرہ کچھ بھی نہیں کرتی۔مہینے کا خرچ میرے شوہر 4000 روپے دیتے ہیں۔
کیا مجھ پہ قربانی فرض ہے؟
جواب سے آگاہ کیجئے گا ۔
صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے پاس اگر صرف حق مہر کامذکوردوتولہ سونا ہی ہو اس کے علاوہ نقدی وغیرہ موجودنہ ہواورشوہرکی جانب سے ماہانہ ملنے والے پیسے بھی جمع شدہ صورت میں موجودنہ ہوبلکہ وہ خرچ ہوجاتے ہو اور نہ ہی اس کی ملکیت میں ضرورت سے زائد سامان ہے تو اس پر قربانی واجب نہیں ہے۔
«حاشية ابن عابدين = رد المحتار : وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) كما مر
(قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا، وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفا، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم۔(ط الحلبي6/ 312)