کیا ای ایف یو (EFU ) لائف انشورنس کمپنی کے فائنانس ڈیپارٹمنٹ میں اکاونٹنگ کی ملازمت جائز ہے؟اگر یہ نوکری حرام ہےتو اس کی دلیل کیا ہے؟
واضح ہو کہ مروّجہ انشورنس چونکہ سود ، قمار اور غرر جیسے ناجائز امور پر مشتمل ہے، اس لئے مذکور انشورنس کمپنی والوں نے ”حمایہ “تکافل کے نام سے جو ونڈو کھولی ہے، اگر سائل کی ملازمت کا تعلق اس سے ہٹ کر ہو تو پھر اس کے فائنانس ڈیپارٹمنٹ میں سود یا قمار سے متعلق ملازمت کرنا شرعاً جائز نہیں،جس سے احتراز لازم ہے۔
عن جابر رضی اللہ عنہ قال لعن رسول اللہﷺ آکل الربا ومؤکلہ وکاتبہ وشاھدیہ وقال ھم سواء الخ(باب الربا، ج2، ص860، ط: بشری)۔
وفی تکملۃ فتح الملھم: قولہ" وکاتبہ " لان کتابۃ الربا اعانۃ علیہ ومن ھنا ظھر ان التوظف فی البنوک الربویہ لا یجوز فان کان التوظف فی البنک ما یعین علی الربا کالکتابۃ و الحساب فذلک حرام بوجھین : الاول:اعانۃ علی المعصیۃ والثانی : اخذ الاجرۃ من المال الحرام الخ (باب الربا، ج1، ص619، ط؛دارالعلوم الکراتشی)۔
اگر بینک منیجر کی تنخواہ حرام ہو تو بینک میں منیجر کی ذمہ داری کون پوری کرے؟
یونیکوڈ بینک کی ملازمت 0