محترم جناب مفتیانِ کرام صاحبان السلام علیکم ورحمۃ الله وبركاتہ!
سلام کے بعد عرض یہ ہے کہ مندرجہ ذیل مسئلوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں؟ کہ بیل کے خصیتین نکال دیے ایک یا دونوں یا اس کو ہتھوڑے وغیرہ سے مار کر خصی کر دیا جائے،تو اس کی قربانی کے بارے میں کیا حکم ہے؟
(۲): یہ کہ افیون کی کاشت اور تجارت کرنا جائز ہے یا نہیں ؟ جبکہ تجارت اس نیت سے ہو کہ یہ دوائیوں وغیرہ میں استعمال ہوگا ،اگر جائز ہے تو کیوں اور اگر نا جائز ہے تو کیوں؟ دلیل سے ثابت کریں ۔
۱:خصی جانور کی قربانی نا صرف جائز بلکہ افضل اور مستحسن ہے، اور خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی خصی جانور کی قربانی کرنا ثابت ہے ، جیسا کہ درجِ ذیل روایات سے بھی واضح ہو رہا ہے۔
۲:افیون کی تجارت اور کاشت کو حضرت امام ابویوسف اور امام محمد رحمہما اللہ نے بالکل ناجائز قرار دیا ہے ،خصوصاً جبکہ اس وقت اس کا جائز استعمال نہ ہونے کے برابر ہے اور حکومت نے اس کی تجارت اور کاشت پر پابندی بھی عائد کی ہے۔ اور حکومت کی جائز پابندی پر عمل کرنا بھی واجب ہے اور اس کی خلاف ورزی ناجائز اور گناہ ہے، اس لئے افیون وغیرہ کی کی تجارت اور کاشت شرعاً بھی جائز نہیں۔ اس لئےاس سے مکمل طور پر اجتناب لازم ہے۔ تاہم اگر کسی نے افیون وغیرہ کو فروخت کر کے اس کی رقم استعمال کرلی تو یہ نہ کہا جائے گا کہ اس نے حرام آمدنی استعمال کی ہے، لیکن پھر بھی وہ توبہ کرلے اور آئندہ اس کاروبار سے اجتناب کرے ۔
ففي سنن أبي داود:عن جابر بن عبد الله،قال: ذبح النبي صلى الله عليه وسلم يوم الذبح كبشين أقرنين أملحين موجأين اھ (3/ 95)۔
و في اعلاء السنن: عن عائشه وعن أبی هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا اراد ان یضحیٰ اشتری کبشین عظیمین سمینین اقرنین أملحين موجوئين اھ (۱۷/ ۲۵۴)۔
و فيھا ايضاً:اقول:الاحاديث نص في جواز التضحية بالخصی والامر مجمع عليه. والمعنى فيه ان الخصاء والوجاء لا يحدث فيه عيبا، بل يزيد اللهم سمنا وطيباً. والوجاء رض الخصيتين وما قطعت خصيتاه او شلتا فهو كالموجوء ۱۷ / ۲۵۴)۔
و في الفتاوى الهندية: والخصي أفضل من الفحل لأنه أطيب لحما كذا في المحيط اھ (5/ 299)۔
ففي الدر المختار: (وصح بيع غير الخمر) مما مر، ومفاده صحة بيع الحشيشة والأفيون. (6/ 454)۔
و في حاشية ابن عابدين: (قوله وصح بيع غير الخمر) أي عنده خلافا لهما في البيع والضمان، لكن الفتوى على قوله في البيع، وعلى قولهما في الضمان إن قصد المتلف الحسبة وذلك يعرف بالقرائن، وإلا فعلى قوله كما في التتارخانية وغيرها.ثم إن البيع وإن صح لكنه يكره كما في الغاية (إلی قوله) أقول: والظاهر أن مرادهم التحريم مطلقا وسد الباب بالكلية وإلا فالحرمة عند قصد اللهو ليست محل الخلاف بل متفق عليها كما مر ويأتي، يعني لما كان الغالب في هذه الأزمنة قصد اللهو لا التقوي على الطاعة منعوا من ذلك أصلا (إلی قوله) و في أول طلاق البحر: من غاب عقله بالبنج والأفيون يقع طلاقه إذا استعمله للهو وإدخال الآفات قصدا لكونه معصية، وإن كان للتداوي فلا لعدمها، كذا في فتح القدير، وهو صريح في حرمة البنج والأفيون لا للدواء. (6/ 454 تا 45۷،)-