’’تصوف‘‘ کی حقیقت سمجھنا چاہتا ہوں، چونکہ یہ قرآن وحدیث سے ثابت نہیں ہے ،تو تصوف کی کیا حقیقت ہے؟ کیایہ شرک ہے یا بدعت؟ کیا واقعی میں قطب، ابدال وغیرہ ہوتے ہیں؟ ہمیں اس کی اکثر باتیں بزرگانِ دین کی کتابوں سے ملتی ہیں، لیکن شریعت سے کچھ نہیں، براہِ کرم اس پر کچھ روشنی ڈالیں۔ جزاک اللہ!
تصوف کا ثبوت حدیثِ جبریل سے ہے اور اس کو حدیث میں احسان سے تعبیر کیا گیا ہے اور ابدال کا تذکرہ بھی خود حدیث شریف میں ابدالِ الشام والی روایت میں مذکور ہے،مزید تفصیل کیلئے مرقاۃ المفاتیح اور تصوف کے موضوع پر لکھی گئی کتب ’’التکشف‘‘ (مؤلفہ حکیم الامت حضرت مولانا محمد اشرف علی تھانوی‘‘ اور ’’دلائل السلوک‘‘ (مؤلفہ مولانا اللہ یار خان) کا مطالعہ مفید رہے گا۔
ففي مشکاۃ المصابیح: عن عمر بن الخطابؓ قال: بينا نحن عند رسول الله ۔ صلى الله عليه وسلم ۔ (ٳلی قوله) قال: فأخبرني عن الإحسان. قال: »أن تعبد الله كأنك تراه فإن لم تكن تراه فإنه يراك« اھ (ص:۱۱)
وفیه ایضا: وعن أم سلمة عن النبي - صلى الله عليه وسلم - قال(ٳلی قوله) فإذا رأى الناس ذلك أتاه أبدال الشام وعصائب أهل العراق فيبايعونه۔ اھـ (ص:۴۷۱) ــــــــــــــ واللہ أعلم بالصواب!
علماءِ دیوبند کی طرف ،اللہ تعالی سے متعلق عقیدۂ کذب کی نسبت کی وضاحت اور حقیقت
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0تبلیغی جماعت کا صرف ایک معروف طریقے پر کام کرنا ۲۔مصنوعی دانت لگانے سے وضو کا حکم ۳۔خودکش حملہ کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0مروجہ تبلیغی جماعت کا حکم ۲۔بغیر وضو کے قرآنِ کریم چھونا ۳۔عصر کے بعد سجدۂ تلاوت کا حکم
یونیکوڈ دینی جماعتیں 0