کافی عرصہ پہلے، جب لوگ فارورڈ میسجز بھیجا کرتے تھے، ایک غلط نمبر میری والدہ سے جڑ گیا۔ اس شخص نے کہا کہ اس کی تعلیم اچھی ہے مگر پس منظر غریب ہے۔ اس کے بعد، میری والدہ اور وہ روز باتیں کرنے لگے، حالانکہ وہ میری والدہ سے بہت کم عمر تھا۔ کچھ وقت بعد، وہ شادی کر کے تین بیٹیوں کا باپ بن گیا، مگر میری والدہ ابھی بھی روز اس سے بات کرتی ہیں۔ ہم تینوں بچوں نے بار بار کہا کہ وہ بات کرنا بند کریں، مگر وہ نہیں مانیں۔ اس نے اپنا نمبر اپنی بیٹی کے نام سے محفوظ کیا ہے۔ تقریباً دس سال پہلے، اس شخص نے شوگر مل میں پروکیورمنٹ کے شعبے میں کام شروع کیا، جہاں وہ رشوت کے ذریعے بہت پیسہ کماتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس نے بہت ساری جائیداد بھی خریدی۔ میری والدہ نے اس کی بیوی کی ڈلیوری کے وقت مالی مدد کی تھی اور اس نے بھی ایک بار ہمیں مالی مدد کی۔ ہم اس کی فیملی کے ساتھ فیملی ڈنرز بھی کر چکے ہیں، لیکن میرے والد کو اس بات کا علم نہیں ہے۔
وہ ہمیشہ میری والدہ کو "آنٹی" کہہ کر پکارتا تھا اور میری والدہ نے اس کی پوری فیملی سے ملنے جانا ہے، مگر مجھے یہ بات پریشان کرتی ہے کہ وہ ہماری خبریں تو نہیں لیتی، لیکن اس کی زندگی کی ہر بات جانتی ہے کیونکہ وہ روز اس سے بات کرتی ہیں۔
اب میری والدہ اس سال حج پر جا رہی ہیں، اور میں چاہتا ہوں کہ وہ اس رشتہ کو ختم کریں، مگر مجھے نہیں پتا کہ اس کا آغاز کیسے کروں۔ کیا کرنا چاہیے؟
اسلام میں نامحرم مرد و عورت کے درمیان غیر ضروری، مسلسل، بے ضرورت اور ذاتی نوعیت کی بات چیت جائز نہیں ، چاہے وہ کسی بھی عمر یا عنوان سے ہو۔
قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے:
"فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَيَطْمَعَ الَّذِي فِي قَلْبِهِ مَرَضٌ"
"تم نزاکت کے ساتھ بات مت کیا کرو، کبھی کوئی ایسا شخص بیجا لالچ کرنے لگے جس کے دل میں روگ ہوتا ہے"(الاحزاب: 32)
صورت مسئولہ میں سائل کی والدہ اور اس شخص کے درمیان جو تعلق ہے ( روزمرہ رابطہ، ذاتی معلومات کا تبادلہ، جذباتی انحصار ) یہ شرعی، اخلاقی اور گھریلو حدود سے متجاوز ہے، خواہ اس میں کوئی جسمانی یا واضح فحاشی نہ بھی ہو۔لہذاسائل کو چاہیے کہ وہ اپنی والدہ کو الزام دینے یا شرمندہ کرنے کے بجائے ان کے مقام کو مدنظر رکھ کر بات کرے؛ اورانھیں احساس دلائے کہ یہ تعلق ان کے مرتبے کے شایان شان نہیں، ایسا تعلق حج جیسے مقدس فریضے کی روحانیت کو متاثر کر سکتا ہے، حج پر ایسی حالتِ قلبی کے ساتھ جانا رب کے حضور قبولیت میں رکاوٹ بن سکتاہے اس لیے اس مقدس سفرپرروانگی سے پہلے ہرقسم کے خلاف شرع عمل سے توبہ و اصلاح لازم ہے۔ ان سے یہ وعدہ لینے کی کوشش کریں کہ وہ اس تعلق کو حج سے پہلے ختم کریں گی اور اس شخص کا نمبر بلاک کریں گی؛ ان پربیجا دباؤ بڑھانے کی بجائے ان کی اصلاح کےلیےخصوصی دعا ؤں کااہتمام بھی کریں۔
کمافی حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي»:
«ثم نقل عن خط العلامة المقدسي: ذكر الإمام أبو العباس القرطبي في كتابه في السماع: ولا يظن من لا فطنة عنده أنا إذا قلنا صوت المرأة عورة أنا نريد بذلك كلامها، لأن ذلك ليس بصحيح، فإذا نجيز الكلام مع النساء للأجانب ومحاورتهن عند الحاجة إلى ذلك، ولا نجيز لهن رفع أصواتهن ولا تمطيطها ولا تليينها وتقطيعها لما في ذلك من استمالة الرجال إليهن وتحريك الشهوات منهم، ومن هذا لم يجز أن تؤذن المرأة. اهـ.» (1/ 406)