السلام علیکم ,
ایک بچی رو رہی تھی،جس کی عمر 4سال تھی،آس پاس ماں بھی نہیں تھی،اس لئے اس کی خالہ نے دودھ پلا دیا،اتنے میں ماں نے آکر دودھ پلانا دیکھا،ماں اور خالہ کے ذریعہ باقی لوگوں کو معلوم ہوا،ماں اور خالہ کے علاوہ کوئی گواہ بھی نہیں تھا۔
اب میرا سوال یہ ہے کہ 1۔اس بچی کا خالہ کے ساتھ رضاعت کا حکم ثابت ہوگا یا نہیں؟2۔اس خالہ کی اولادکے ساتھ اس بچی کے نکاح کا کیا حکم ہوگا؟3۔اس خالہ کی اولاد کے ساتھ اس بچی کا شرعی پردہ کرنا ضروری ہے یا نہیں؟
تفصیل سے بتا کر ممنون فرمائیں۔
واضح ہوکہ ہوکہ مفتی بہ قول کے مطابق رضاعت کی مدت ڈھائی سال ہے،جب بچہ/بچی کو اڑھائی سال تک کوئی بھی عورت اپنا دودھ پلادے تو اس سےحرمت رضاعت ثابت ہوجاتی ہے،جبکہ اس عمر کے بعد کسی بھی بچے یا بچی کو اس کی والدہ یاکسی دوسری عورت کیلئے دودھ پلانا ناجائز و حرام ہے،اور اس سے حرمت رضاعت بھی ثابت نہ ہوگی،لہذا صورت مسئولہ میں بچی کی مذکور خالہ کا چار سال کی عمر ہونے کے باوجود صرف اس کے رونے پر دودھ پلانا جائز نہیں تھا ،جس کی وجہ سے وہ گناہ گار ہوئی ہے،اس پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس فعل پر بصدق دل توبہ و استغفار کرے اور آئندہ ان امور سے اجتناب کرے،تاہم بچی کی عمر مدت رضاعت سے زیادہ ہونے کی وجہ سے دودھ پلانے کے باوجود مذکور بچی اور اس کی خالہ کے درمیان حرمت رضاعت ثابت نہیں ہوئی،لہذا مذکوربچی دودھ پلانے والی خالہ کے بچوں کیلئے بدستور غیر محرم ہے،جن سے پردہ کرنا ضروری ہے،جبکہ مذکور بچی کا نکاح اس خالہ کے بیٹے سے شرعا جائز ہے،بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جاتی ہو۔
و فی بدائع الصنائع : وَأَمَّا صِفَةُ الرَّضَاعِ الْمُحَرِّمِ فَالرَّضَاعُ الْمُحَرِّمُ مَا يَكُونُ فِي حَالِ الصِّغَرِ فَأَمَّا مَا يَكُونُ فِي حَالِ الْكِبَرِ فَلَا يُحَرِّمُ عِنْدَ عَامَّةِ الْعُلَمَاءِ وَعَامَّةِ الصَّحَابَةِ الخ (کتاب الرضاع: ج:4،ص:5،ط:دارالکتب العلمیۃ )
و فی الھندیۃ: لَوْ فُطِمَ الرَّضِيعُ فِي مُدَّةِ الرَّضَاعِ ثُمَّ سُقِيَ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْمُدَّةِ فَهُوَ رَضَاعٌ عَلَى قَوْلِ مَنْ يَرَى الرَّضَاعَ فِي تِلْكَ الْمُدَّةِ لِوُجُودِ الْإِرْضَاعِ فِي الْمُدَّةِ وَهُوَ الظَّاهِرُمِنْ الْمَذْهَبِ كَذَا فِي الْمُحِيطِ. وَفِي الْيَنَابِيعِ وَعَلَيْهِ الْفَتْوَى كَذَا فِي التَّتَارْخَانِيَّة. وَإِذَا مَضَتْ مُدَّةُ الرَّضَاعِ لَمْ يَتَعَلَّقْ بِالرَّضَاعِ تَحْرِيمٌ كَذَا فِي الْهِدَايَةِ اھ (کتاب الرضاع: ج:1،ص:343،ط:دارالفکر بیروت )
و فی البنایۃ شرح الھدایۃ:م: (وهل يباح الإرضاع بعد المدة، قد قيل: لا يباح؛ لأن إباحته ضرورية) ش: أي لأن إباحة اللبن في المدة لضرورة الولد، والثابت بالضرورة يتقدر بقدر الضرورة، فلايباح بعد المدة لزوال الضرورة م: (لكونه جزء الآدمي) ش: أي لكون اللبن جزء الآدمي، والانتفاع به حرام، لأن الآدمي وجزءه لا يجوز أن يكون مبتذلا مهانا، وسواء كان الإرضاع من الأم، أو من الأجنبية (کتاب الرضاع: ج:5،ص:263،ط:دارالکتب العلمیۃ بیروت لبنان)
جس بچے نے کسی عورت کا دودھ پیا ہے تو اس کی دیگر اولاد کے ساتھ بچے کے بہن بھائیوں کے نکاح کا حکم
یونیکوڈ رضاعت 0