کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ بینک کو زمین کرائے پر دینا کیسا ہے؟ برائے کرم شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں۔ شکریہ
واضح ہو کہ اسلامی (شریعہ کمپلائنس) بینک یا کسی کنوینشل بینک کی اسلامی برانچ کے لئے زمین یا دوکان وغیرہ کرایہ پر دینا شرعاً جائز ہے، اس میں کوئی حرج نہیں، البتہ سودی بینک میں سودی معاملات اور لین دین کا پایا جانا یقینی ہے،اس لیے سودی بینکوں کو اپنی جگہ کرایہ پر دینے سے اجتناب کرنا چاہیئے۔
کما فی الدر المختار: (و) جاز (إجارة بيت بسواد الكوفة)(الی قولہ)(ليتخذ بيت نار أو كنيسة أو بيعة أو يباع فيه الخمر) وقالا لا ينبغي ذلك لأنه إعانة على المعصية الخ(ج6 ص392)۔
وفی فقہ البیوع: وعلى هذا يُخرج حكم بيع البناء أو إجارته لبنك ربوى. فإن قصد البائع الإعانة، أو صرح في العقد بكونه يُستخدم للأعمال الربويّة حرم البيع وبطل والظاهر أن تصريح المستأجر حينما يعقد البيع أو الإجارة لإقامة فرع للبنك مثلاً، فإنّه فى حكم التصریح بأن البناء يستعمل للأعمال الربوية. أما إذا بيع البناء أو أجر لغرض آخر للبنك، مثل التخزين وغيره، فلا يدخل في ذلك الحكم، وليس سبباً قريباً للمعصية، فينبغي أن يجوز مع الكراهة تنزيهاً الخ(ج1 ص194)۔