چند سال قبل تحقیق سے یہ بات سامنے آئی تھی کہ ملٹی نیشنل کمپنیاں جو کہ کوڈ 110 E اوراسی طرح Eکوڈ جو کہ ہندسوں کے ساتھ ہوتا ہے کہ اس سے مراد خنزیر کے مختلف اجزاء ہیں ،اور یہ بات اخبارات میں بھی شائع ہوئی تھی، اور اس کے ساتھ ہی جوس کے پیکٹ، کینڈیز اور چاکلیٹ وغیرہ پر حلال کا لفظ لکھا ہوا آنے لگا تھا، اب میں جن چیزوں پر بھی اس طرح کے کوڈ دیکھتی ہوں ،تو نہ خود وہ استعمال کرتی ہوں،بلکہ دوسروں کو بھی منع کر دیتی ہوں، آپ اس بارے میں وضاحت کریں ویسے بھی میرا مشاہدہ ہے کہ جن اشیاء کے استعمال سے میرا دل خراب ہوتا ہے ،اور ذہن میں یہ بات آتی ہے کو شائد یہ چیز میں نے کھا کر غلطی کی ہے جب ان کے اجزاء دیکھتی ہوں تو اس میں یہ کوڈ لکھا ہوا ملتا ہے ۔
سوال میں مذکور یا کسی دوسرےکوڈ کے بارے میں اگر باقاعدہ تحقیق سے یہ ثابت ہو جائے کہ اس کے بنیادی فارمولے اور مرکبات میں کسی قسم کے حرام کی آمیزش کی گئی ہے، اور اس کی حقیقت و ماہیت کو کسی کیمیاوی طرزِ عمل کے ذریعہ تبدیل بھی نہیں کیا گیا ۔ تو اس کا کھانا جائز نہیں، اس سے احترار لازم اور واجب ہے۔ اور جب تک ایسی کوڈز والی اشیاء کی مرکب اجزاء کی حلت کا یقین اور تحقیق نہ ہو جائے، اس وقت تک ایسے مبہم کو ڈز والی اشیاء کے کھانے پینے وغیرہ سے احتراز چاہیئے۔
كما في مشكاة المصابيح: وعن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله صلى الله ،عليه وسلم: «الحلال بين والحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس فمن اتقى الشبهاب استبرأ لدينه وعرضه ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام اھ (2/ 843)۔
وفي حاشية ابن عابدين: تحت (قوله: ويطهر زيت إلخ)(إلی قوله) وعليه يتفرع ما لو وقع إنسان أو كلب في قدر الصابون فصار صابونا يكون طاهرا لتبدل الحقيقة. اهـ. ثم اعلم أن العلة عند محمد هي التغير وانقلاب الحقيقة وأنه يفتى به للبلوى كما علم مما مر، ومقتضاه عدم اختصاص ذلك الحكم بالصابون، فيدخل فيه كل ما كان فيه تغير وانقلاب حقيقة وكان فيه بلوى عامة اھ (1/ 316) -
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0