بائنانس اور این، ایف، ٹی کا کاروبار حلال ہے یا حرام؟
واضح ہو کہ بائنانس مختلف کرنسیوں کے تبادلہ کے لئے استعمال ہونے والا ایک پلیٹ فارم ہے ، جس پر بٹ کوائن سمیت کئی ورچول کرنسیوں کی خرید و فروخت کی جاتی ہے ، جبکہ موجودہ ورچو ل کرنسیوں کی شرعی حیثیت اب تک غیر واضح اور غیر اطمینان بخش ہے ، بلکہ اسے محض ڈیوائس میں موجود ہونے کی حد تک ہی کرنسی خیال کیا جاتا ہے ، اور خارج میں اس کا کوئی حسی وجود نہیں ، لہٰذا اب تک کی معلومات کے مطابق اس پلیٹ فارم کے ذریعے کسی بھی ورچول کرنسی کی خرید و فروخت اور کاروبار کرنے اور اس سے حاصل شدہ نفع کو اپنے استعمال میں لانے سے احتیاط لازم ہے۔
جبکہ NFT( Non-fungible token) ایک ڈیجیٹل ٹوکن ہے جو آن لائن اثاثوں اور حقوق کی نمائندگی کرتا ہے، جیسے تصاویر، ویڈیوز، گیمز کے کردار، میوزک اور پینٹنگز وغیرہ۔ لیکن NFT کے ذریعے ہونے والے لین دین میں کئی شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں: مثلاً اکثر ناجائز چیزوں (خواتین کی تصاویر، میوزک وغیرہ) کی خرید و فروخت، حقیقی خرید و فروخت کے بجائے کمیشن اور رائلٹی پر مبنی کاروبار، مصنوعی طور پر قیمتیں بڑھا کر دکھاوے کی تجارت، اور یہ سب زیادہ تر ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے ہونا، جو پہلے ہی شرعی طور پر مشتبہ اور مفاسد سے بھر پور ہے۔ شریعت کے مطابق خرید و فروخت اسی وقت جائز ہوتی ہے جب چیز حقیقتاً مالِ متقوم ہو، اور فروخت کرنے والے کی ملکیت اور قبضے میں بھی ہو،اور خریدار کو اس کے تمام حقوق حاصل ہونے کے ساتھ اس کا استعمال بھی جائز ہو۔ چونکہ NFT میں یہ شرائط پوری نہیں پائی جاتیں، اس لئے NFT کے ذریعے خرید و فروخت اور پیسہ کمانا ناجائز ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔
كما في بدائع الصنائع: ومنها: وهو شرطُ انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكًا للبائع عند البيع، فإن لم يكن لا ينعقد... وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله ﷺ عن بيع ما ليس عند الإنسان... (ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول، فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي ﷺ «نهى عن بيع ما لم يُقبض» الخ( کتاب البیوع ، فصل فی الشرط الذی یرجع الی المعقود علیہ ،ج: 5 ، ص: 146، ط: سعید)۔
وفي الدر المختار: وشرعا: (مبادلة شيء مرغوب فيه بمثله) خرج غير المرغوب كتراب وميتة ودم على وجه) مفيد. (مخصوص) أي بإيجاب أو تعاط، فخرج التبرع من الجانبين والهبة بشرط العوض، وخرج بمفيد ما لا يفيد الخ ( کتاب البیوع ، ج: 4 ، ص: 502 ، ط: سعید)۔