السلام علیکم!
محترم علماءِ کرام کچھ مسئلوں کو آپ کے سامنے رکھ کر ان کا شرعی حکم جاننا چاہتا ہوں فتویٰ کی شکل میں۔
۱:بینک میں کام کرنا جائز ہے یا ناجائز؟ اور اگر ناجائز ہے تو کیا بینک میں کام کرنا سود ہے ؟
(۲): جس بینک میں سیونگ اکاؤنٹ یعنی وہ اکاؤنٹ جس پر بینک منافع دیتا ہے، اس بینک کو اسلامی بینک کہنا صحیح ہیں یا نہیں؟
(۳) :ایک شخص اگر جانتا ہے کہ بینک کا کام سود میں آتا ہے، اور وہ اُسے جائز کہتا ہے، جان بوجھ کر دلائل دیتاہے، اس شخص کے بارے میں شرعی کیا حکم ہیں؟
(۴): عورتوں کا بینک میں کام کرنا کیسا ہے؟ اور بینک میں نماز پڑھنا عورتوں اور مردوں کا؟ مطلب اگر بینک کا کام سودہے ،تو کیا سود جیسے گناہ جہاں ہو , وہاں نماز پڑھنا جائز ہے ؟ محترم مفتیانِ کرام ان سب سوالوں کا آپ سے شرعی فتویٰ چاہتا ہوں اور برائے مہربانی تفصیل سے جواب دیں۔
(۱):اسلامی بینک میں ملازمت اختیار کرنا تو جائز ہے ، البتہ سودی بینک کی ملازمت اختیار کرنے میں تھوڑی سی تفصیل ہے:
سودی بینک کی ایسی ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے ہے ،جیسے منیجر اور کیشیئر وغیرہ کی ملازمت ,ایسی ملازمت بالکل حرام اور نا جائز ہے - چنانچہ ایک حدیث میں ہے ’’لعن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم أكل الربو ومؤكله وكاتبه و شاهدیه قال وهم سواء‘‘۔ (مسلم شریف ج ۲ ص ۲۷) یعنی" رسول اللہ ﷺ نے سود کھانے والے، سود دینے والے ، سودی تحریر لکھنے والے ، اور سودی شہادت دینے والے پر لعنت فرمائی ہے ،اور فرمایا کہ وہ وہ سب لوگ گناہ میں برابر ہیں "اور ایسی ملازمت سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی حرام ہے . لیکن بینک کی وہ ملازمت جس کا تعلق براہِ راست سودی معاملات سے نہیں ، نہ اس کا تعلق سود کے لکھنے سے ہے, نہ سود پر گواہ بننے سے ہے اور نہ سودی معاملات سے ہے ،اور نہ سودی معاملات میں کسی قسم کی شرکت ہوتی ہے، جیسے چوکیداری کی ملازمت، ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے آمدنی کے متعلق علماءِ کرام کی آراء مختلف ہیں، ایک رائے تو یہ ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں، یہ بھی جائز نہیں،کیونکہ ایسے ملازمین کا اگرچہ سودی معاملات میں کوئی عمل دخل نہیں، لیکن انہیں جو تنخواہ دیجاتی ہے، وہ ان رقوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتی ہیں اور اس میں سود بھی شامل ہوتا ہے، اس لئے ایسی ملازمت بھی جائز نہیں ۔
جبکہ دوسری رائے یہ ہے کہ بینک کی صرف ایسی ملازمت جس کا سودی معاملات سے کسی قسم کا تعلق نہیں ،یہ جائز ہے۔ اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ملازمین کو جو تنخواہ دیجاتی ہے ،وہ اگر چہ ان ر قوم کے مجموعہ سے دیجاتی ہے جو بینک میں موجود ہوتی ہیں، لیکن بینک میں موجود ساری رقم سودی نہیں ہوتی ،بلکہ اس میں کئی قسم کی رقمیں مخلوط ہوتی ہے، یعنی وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو لوگوں نے اپنے کھاتوں میں جمع کروائی ہوتی ہیں، یعنی بینک نے وہ رقم قرض کے طور پر لی ہے اور وہ وہ رقوم بھی ہوتی ہیں جو بینک مالکان کا اصل سرمایہ ہے اور وہ رقوم بھی ہوتی ہےجو بطورِ سود کے حاصل کی گئی ہیں ،لیکن بینک میں جمع رقوم اکثر پہلی دو قسم کی ہوتی ہیں اور آخری قسم کی رقوم ان کی بہ نسبت کم ہوتی ہیں، اس لئے بینک میں موجود اکثر رقوم حلال ہوتی ہیں، لہذا اگر اس مجموعی مخلوط رقم سے ایسے ملازم کو تنخواہ دی جاتی ہے جس کا سودی معاملات سے کسی بھی قسم کا تعلق نہیں تو ا نکے لئے ایسی ملازمت اور اس سے حاصل ہونے والی تنخواہ حرام نہیں، البتہ بہتر یہی ہے کہ بینک کی ایسی ملازمت بھی اختیار نہ کی جائے۔
(۲، ۳): سودی بینکوں کے سیونگ اکاونٹ سود پر مبنی ہوتے ہیں، اس کو جانتے ہوئے بھی حلال قرار دینا گناہ اور ایمان کے لئے خطرے کی بات ہے۔
(۴): عورت کے لئے حکم یہ ہے کہ وہ بلاضرورت گھر سے باہر نہ نکلے، اور اپنے ذمے واجب گھریلو امور انجام دے، یہی وجہ ہے کہ شریعت نے عورت کے نان، نفقہ کی ذمہ داری کبھی اس کے والد پر اور کبھی اس کے شوہر وغیرہ پر عائد کی ہے،لہٰذا بلاضرورت عورت کا بینک یا کسی بھی نوکری کے لئے نکلنا درست نہیں، تاہم اگر کوئی کمانے والا نہ ہو تو عورت نوکری کر سکتی ہے، بشرطیکہ باپردہ ہو کر جائے اور کام کی جگہ پر نامحرم مردوں سے اختلاط نہ ہو اور شوہر یا ولی کی طرف سے اجازت ہو اور نوکری بھی جائز ہو ، اب اگر ملازمت جائز ہو تو عورت کی آمدنی حلال ہوگی۔ جبکہ بینک یا ایسی جگہ نماز پڑھنا جائز ہے۔
كما قال الله تبارك وتعالى: ﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ﴾ (المائدة: 2) ۔
وفي المشكاة المصابيح: عن أبي هريرة رضى الله عنه قال قال رسول ﷺ : الربوا سبعون جزءاً أيسرها أن ينكح الرجل أمه اھ (۲ / ۲۴۲)۔
و في شرح العقائد النسفية: (ورد النصوص) بأن ينكر الأحكام التي دلت عليها النصوص القطعية من الكتاب والسنة (إلی قوله) (والاستهانة بها كفر، والاستهزاء على الشريعة كفر) (ص: 96)۔
وفي الدر المختار: (و) لها (النفقة) بعد المنع (و) لها (السفر والخروج من بيت زوجها للحاجة) (3/ 145)۔
وفي البحر الرائق: قوله ( ومعتدة الموت تخرج يوما وبعض الليل ) لتكتسب لأجل قيام المعيشة لأنه لا نفقة لها حتى لو كان عندها كفايتها صارت كالمطلقة فلا يحل لها أن تخرج لزيارة ولا لغيرها ليلا ولا نهارا اھ (4/ 166) -