میں کرپٹو کرنسی میں اسپاٹ ٹریڈنگ کر رہا ہوں۔اور میں فیوچر ٹریڈنگ سے بچتا ہوں- میں جامعۃ الرشید کراچی کے مفتی اویس پراچہ کے بنائے ہوئے اصولوں کا پابند ہوں اور صرف ان سکوں میں ٹریڈ کرتا ہوں جن میں کسی بھی قسم کا سود، شراب والی کمپنی کے ساتھ تعلق، کسی مووی یا گانے کو پروموٹ کرنا، میم سکوں اور جو بھی اسلامی حرام عنصر ہے، اس سے بچتا ہوں۔ اور میں نے تقریباً 25 لاکھ پاکستانی روپے ڈال رکھے ہیں۔ کیا میں مفتی اویس پارچہ کے احکام کے مطابق اسپاٹ ٹریڈنگ جاری رکھ سکتا ہوں؟
اکثر علماء کے نزدیک موجودہ بٹ کوائن اور ورچول کرنسیوں کی شرعی حیثیت اب تک غیر واضح اور غیر اطمنان بخش ہے، جبکہ اسے محض ڈیوائس میں موجود ہونے کی حد تک ہی خیال کیا جاتاہے، اور خارج میں اس کا کوئی حسی وجود نہیں ، نیز پاکستان سمیت کئی ممالک میں قانونی طور پر اس کو مبادلہ اور خرید و فروخت کے لئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی گئی لہذا اب تک کی معلومات کے مطابق کسی بھی ورچول کرنسی کی خرید و فروخت اور کاروبار کرنے اور اس سے نفع حاصل کرنے سے احتیاط چاہیئے۔
کما فی المشکاۃ: وعن النعمان بن بشير قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «الحلال بين والحرام بين وبينهما مشتبهات لا يعلمهن كثير من الناس الحدیث (باب الكسب وطلب الحلال، کتاب البیوع، ج: 2، ص: 843، ط: المکتب الإسلامی بیروت)۔
و فی المرقاۃ تحت الحدیث: وفي شرح السنة: هذا الحديث أصل في الورع، وهو أن ما اشتبه أمره في التحليل والتحريم ولا يعرف له أصل متقدم، فالورع أن يتركه ويجتنبه، فإنه إذ لم يتركه واستمر عليه واعتاده جر ذلك إلى الوقوع في الحرام، فلو وجد في بيته شيئا لا يدري هل هو له أو لغيره فالورع أن يجتنبه، ولا عليه إن تناوله لأنه في يده، ويدخل في هذا الباب معاملة من في ماله شبهة أو خالطه ربا، فالأولى أن يحترز عنها ويتركها، ولا يحكم بفسادها ما لم يتيقن أن عينه حرام الخ۔(باب الكسب وطلب الحلال، کتاب البیوع، ج:6، ص: 15، ط: المکتبہ الحقانیۃ)۔
وفی الھندیۃ: ومنها في المبيع وهو أن يكون موجودا فلا ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كبيع نتاج النتاج والحمل كذا في البدائع الخ ( کتاب البیوع، ج: 3، ص: 1، ط: ماجدیہ)۔