کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ’’غوثیہ لکی انعامی اسکیم اینڈ موٹر سائیکل شوروم‘‘ کے بارے میں کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟ جس کی تفصیلات اور شرائط ساتھ لگائے گئے کاغذ پر مذکور ہیں۔
سوال کے ساتھ منسلکہ شرائط پر مبنی انعامی اسکیم شرعاً جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔
قال اللہ تعالیٰ: قال الله تبارك وتعالى: ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ﴾ (المائدة: 90)۔
وفي حاشية ابن عابدين: تحت (قوله لأنه يصير قمارا) (إلی قوله( وسمي القمار قمارا لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص اھ (6/ 403)۔ والله أعلم بالصواب!