بخدمت جناب مفتی صاحب السلام علیکم! بعد از سلام گزارش کی جاتی ہے کہ بندہ حوالے کا کاروبار کرتا ہے، جس کی صورت یہ ہے کہ بندہ یہاں کراچی میں مثلاً زید سے دس ہزار روپے وصول کر لیتا ہے، پھر زید کا بھائی پشاور میں بندہ کے منشی سے نو ہزار نو سو (۹۹۰۰) روپے وصول کر لیتا ہے، اور بندہ یہ پیسے بینک کے ذریعے بھیجتا ہے ،اور ان پیسوں کے بھیجنے کی اخراجات اور ان کی ذمہ داری بنده پر ہوتی ہے، سوال یہ ہے آیا یہ کاروبار شرعی اعتبار سے جائز ہے ناجائز؟
ایک ملک کی کرنسی میں کمی بیشی کا معاملہ کرنا شرعا جائز نہیں، اس سے احتراز لازم ہے۔ تاہم بینک کے ذریعہ رقوم کی منتقلی پر عموماً سروس چارجز وصول کی جاتی ہیں ؟ اگر سائل بھی فون ، فیکس اور بینک تک جانے کا کرایہ کے واجبی اخراجات وصول کرتا ہو تو شرعا اس کی گنجائش ہے۔
ففي بحوث في قضايا فقهية معاصرة: وأما بيعها على التفاضل بأن تكون قيمة أحد البدلين أكثر من الآخر، كبيع الربية بالربيتين، والريال بالريالين، والدولار بالدولارين، فتجري فيه أحكام الفلوس بالتفاضل، وفيه خلاف مشهور للفقهاء. وذلك أن بيع الفلس بالفلسين حرام مطلقا، وهو من الربا المحرم شرعاً اھ (ص: 163)۔
وفي فتح القدير للكمال ابن الهمام: كما إذا أخذ الوكيل الأجرة لإقامة الوكالة فإنه غير ممنوع شرعا، إذ الوكالة عقد جائز لا يجب على الوكيل إقامتها فيجوز أخذ الأجرة فيها اھ (8/ 3)۔
وفي الفقه الإسلامي وأدلته: الوكالة بأجر: تصح الوكالة بأجر، وبغير أجر، لأن النبي صلى الله عليه وسلم كان يبعث عماله لقبض الصدقات، ويجعل لهم عمولة. فإذا تمت الوكالة بأجر، لزم العقد، ويكون للوكيل حكم الأجير اھ (4/ 505) ۔والله أعلم بالصواب!
ایک جنس کی کرنسی کا باہم تبادلہ کرنے کے وقت کمی بیشی کرنا-اور قسطوں پر خرید وفروخت کی شرائط
یونیکوڈ کرنسی 0