1۔ کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِِ کرام اس مسئلہ کے بارے کہ زید کی بہن کی شادی عمرو کے ساتھ ہوتی ہے ،اور عمرو کا جو کاروبار ہے، وہ فوٹو گرافری اور مووی کا ہے، اس کے علاوہ اور کوئی کاروبار نہیں ہے۔ اب اگر زید کے کے ساتھ کوئی دوست یا کوئی رشتہ دار عمرو کے یہاں جائے ،اور ان کو پتہ ہے کہ ان کا کاروبار حرام ہے ،اس کے باوجود اگر ان لوگوں کو عمرو کے گھر پر کھانے کے لئے مجبور کیا جائے ،تو کیا حکم ہے ؟آیا کھانا چاہیئے یا ان کو منع کرنا چاہیئے ؟
۲- حدیث شریف میں آیا ہے کہ ’’ اشد الناس عذاباً یوم القیامۃ المصورون‘‘ اس حدیث میں مووی داخل ہے یا نہیں ؟ اور اگر شادی میں مووی بنوائی جائے ،تو کیا حکم ہے؟ برائے مہربانی قرآن وحدیث کی روشنی میں مسئلہ ہذا کی وضاحت فرمائیں۔
۳۔ آج کل ہمارے جلسوں میں مووی کے کیمرے جگہ جگہ لگے ہوتے ہیں، اور بڑے بڑے نامور علماءِ کرام موجود ہوتے ہیں، اور ویڈیو بنائی جاتی ہے،تو اس میں کسی حد تک گنجائش ہے کیا؟ اس طرح علماء کی مجالس میں ویڈیو کیمرے لگانا جائز ہے یا نہیں ؟
۴۔ حدیث میں آتا ہے کہ جب ہجرت کی گئی مدینہ کی طرف , تو انصار صحابہ کرام میں سے ایک نے مہاجر صحابی سے کہا کہ میری دو بیویاں ہیں، جس کو آپ پسند کریں ،اس کو میں طلاق دیدیتا ہوں، مختصر یہ ہے کہ ان صحابی نے فرمایا کہ آپ میری بازار کی طرف رہنمائی فرمادیں، تو ان صحابی نے بازار جاکر تجارت کی ان کو نفع ہوا پھر دو تین دن کے بعد جب وہ نبی کریم ﷺسے ملے تو آپ نے فرمایا کہ آپ نے شادی کرلی ہے، تو انہوں نے فرمایا جی ہاں ! آپ نے ان کو جو پہچانا تھا، وہ اس وجہ سے کہ ان کے کپڑے پر زرد رنگ لگا ہوا تھا،اس طرح آج کل جو شادی بیاہ میں ابٹن کیا جاتا ہے جو کہ ایک رسم بن چکی ہے اس معاشرہ میں , کیا ابٹن کرنا جائز ہے یا نہیں، کیونکہ ابٹن میں بھی دولہا کو زرد رنگ لگایا جاتا ہے۔
۱۔ ایسے شخص کی اگر حلال آمدنی کوئی نہ ہو تو اس کے یہاں دعوت وغیرہ کھانے سے احتراز لازم ہے۔ الا یہ کہ وہ کسی جائز اور حلال طریقہ پر قرض لے کر انتظام کرلے تو اس کے کھانے میں حرج نہیں۔
۲۔ اس کے بعد واضح ہو کہ اگرچہ وہ نقوش وتصاویر جو کسی سیڈیز وغیرہ کی مدد سے کمپیوٹر یا مووی کیمرہ وغیرہ کی اسکرین پر نظر آرہی ہوں لیکن محققین علماء کے نزدیک ان کا تصویرِمحرم میں داخل ہونا مختلف فیہ ہے، مگر کسی ناجائز وممنوع پروگرام پر مشتمل ویڈیو اور مووی بذاتِ خود ممنوع وحرام ہے، جس کے جواز کا کوئی بھی قائل نہیں، پھر اگرکسی ایسے پروگرام میں کوئی عالمِ دین بھی شریک ہو تو اس کی شرکت دلیلِ جواز نہیں، بلکہ وہ خود ایک غیر شرعی اور امر ممنوع کا مرتکب ہونے کی وجہ سے گناہ گار ہے اور مسلمان اوامرِ شرعیہ پر عمل کرنے کا پابند ہے، اس لئے ویڈیو اور مووی وغیرہ بنانے سے بھی احتراز لازم ہے۔
۔ البتہ وہ تصاویر جن کا بنوانا قانوناً لازم ہو یا وہ مووی جو سیکیورٹی کے پیش نظر بنائی جارہی ہو اور بعد میں اسے ضائع کر دیا جاتا ہو یا کسی پروگرام کی ویڈیو وغیرہ بنانا جو دیگر غیر شرعی امور سے پاک ہو، ا س کی اگر چہ شرعاً بھی گنجائش ہے، مگر ان امور سے بھی احتراز بہر حال بہتر و افضل ہے۔
۴۔ اس کے بعد واضح ہو کہ سوال میں مذکور جس حدیثِ مبارک سے ابٹن رسم کے جواز پر استدلال کیا گیا ہے، یہ استدلال قطعاً درست نہیں، اس لئے کہ اولاً تو اس حدیثِ مبارک میں اس بات کی کوئی صراحت نہیں کہ عبد الرحمن بن عوف نے خود اور قصداً ایسا کیا ہو اور دوسرے آپ ﷺ کا اسے پسند فرمانا بھی مذکور نہیں، بلکہ بطورِ تعجب پوچھا تو انہوں نے جواباً عرض کیا کہ میں نے شادی کرلی ہے اور بیوی کے ساتھ باہم اختلاط کی وجہ سے میرے لباس پر بھی یہ نشان آگئے ہیں اس پر آپ ﷺ نے سکوت فرمایا گویا ان کے عذر کو قبول فرما لیا، اس لئے مذکور ابٹن کی رسم جو دیگر کئی ایک منکرات کو شامل ہے , کو اختیار کرنے وغیرہ سے احتراز لازم ہے۔
ففی حاشية ابن عابدين: عمن اكتسب ماله من أمراء السلطان ومن الغرامات المحرمات وغير ذلك هل يحل لمن عرف ذلك أن يأكل من طعامه قال أحب إلي في دينه أن لا يأكل ويسعه حكما إن لم يكن ذلك الطعام غصبا أو رشوة وفي الخانية امرأة زوجها في أرض الجور إن أكلت من طعامه ولم يكن عين ذلك الطعام غصبا فهي في سعة من أكله اھ (5/ 99).
وفي صحيح مسلم: عن مسروق عن عبد الله قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم * إن أشد الناس عذابا يوم القيامة المصورون اھ (3/ 1670)-
وفي تكملة فتح الملهم: والواقع أن التفریق بین الصورة المرسومة والصورالشمسیة لا ینبغی علی اصل قویّ ومن المقرر شرعاً أن ما کان حراما وغیر مشروع فی أصله (إلی قوله) أما التلفزيون والفیدیو فلاشك في حرمة استعمالها بالنظر إلى ما يشتملان عليه من المنكرات الكثيرة من الخلاعة والمجون والكشف عن النساء المتبرجات أو العاريات وما إلى ذلك من أسباب الفسوق (إلی قوله) وأما إذا احتفظ بالصورة في شريط الفيديو، فان الصور لا تنقش على الشريط وإنما تحفظ فيها الاجزاء الكهربائية التي ليس فيها صورة فاذا ظهرت هذه الاجزاء على الشاشة ظهرت مرة أخرى بذلك الترتيب الطبيعي، ولكن ليس لها ثبات ولا استقرار على الشاشة وانما هي تظهر وتفنی اھ (إلی قوله) الصورة لا تستقر على الكيمرا، ولا على الشاشة وانما هي اجزاء كهربائية تنتقل من الكيمرا إلى الشاشة وتظهر عليها بترتيبها الاصلى ثم تفنی وتزول وأما إذا احتفظ باالصورة في شريط الفيديو فان الصور لا تنقش على الشريط وانما تحفظ فيها الاجزاء الكهربائية التي ليس فيها صورة فاذا ظهرت هذه الاجزاء على الشاشة ظهرت مرة اخرى بذلك الترتيب الطبيعي ولكن ليس لها ثبات ولا استقرار على الشاشة وإنما هي تظهر و تفنى فلا يبدوان هناك مرحلة من المراحل تنتقش فيها الصورة على شئى بصفة مستقرة أو رائمة وعلى هذا فتنزيل هذه الصورة منزلة الصورة المستقرة مشكل اھ (۱۶/۱۶۴، ۱۶۵)-
وفي تكملة فتح الملهم: أما اتخاذ الصورة الشمسية للضرورة أو الحاجة کحاجتها في جواز السفر، وفي التاشيره وفي البطاقات الشخصية أو في مواضع يحتاج فيها إلى معرفة هوية المرء فينبغي أن يكون مرخصاً فيه فإن الفقهاء رحمهم الله تعالى استثنو مواضع الضرورة من الحرمة اھ (۴/ ۱۶۴)-
وفي مرقاة المفاتيح: قال الطيبي: سؤال عن السبب فلذا أجاب بما أجاب، ويحتمل الإنكار بأنه كان نهي عن التضمخ بالخلوق فأجاب بأنه ليس تضخما بل شيء علق به من مخالطة العروس أي من غير قصد أو من غير اطلاع اھ (5/ 2103) -
مشینی جھٹکے سے ذبح شدہ جانور اور مشکوک و نامعلوم کھانوں کا حکم
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0فیکٹری مالک کو بتائے بغیر ، اس کی فیکٹری سے پانی و بجلی استعمال کرنا
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0بلی اگر آٹا جھوٹا کرلے تو اس کو استعمال کیا جا سکتا ہے-کن کن جانوروں کا جھوٹا پاک ہے؟
یونیکوڈ کھانے پینے کی حلال و حرام اشیاء 0