میری مستقل رہائش کراچی میں ہے، اپنے شوہر اور بچوں کے ساتھ۔ دوسرا گھر لاہور میں ہے، جو میرے نام پر ہے اور وہاں سال میں دو ،تین مرتبہ جانا ہوتا ہے ، کبھی اکیلے اور کبھی فیملی کے ساتھ کچھ دنوں کے لیے۔ لاہور والے گھر میں بھی ضرورت کا سامان موجود ہے اور میری غیرموجودگی میں وہ گھر بند رہتا ہے۔ سوال1۔ مجھےاور میرے شوہر کو لاہور میں نماز قصر ادا کرنی ہو گی یا کہ پوری نماز پڑھنی ہوگی؟ 2۔ میرے شادی شدہ بچے وہاں نمازِ قصر ادا کریں گے یا کہ پوری نماز؟
صورت مسئولہ میں سائلہ اور اس کے شوہر اور بچوں کی مستقل رہائش کراچی میں ہی ہو، لاہور میں عارضی طورپر رہائش ہو (سال میں کچھ دنوں ہی کیلئے وہاں رکنا پڑتا ہو) تو لاہور وطن اصلی نہیں، (اگرچہ ذاتی مکان وہاں موجود ہو) البتہ اگر لاہور شہرمیں ایک مرتبہ پندرہ یا اس سے زائد دن ٹھہرنے کی نیت کرچکے ہوں تو ايسى صورت مىں لاہور ان كے لئے وطن اقامت بن چكا ہے، لہذا جب تك مذكور رہائش برقرار ہو تو لاہور شہر جانے كى صورت مىں پورى نماز ادا كرنا لازم ہوگا، اگرچہ چند دنوں كىلئے ہى ركنا پڑے۔
کما في مجمع الأنهر: وفي محيط السرخسي: لو كان له أهل بالكوفة وأهل بالبصرة فمات أهله بالبصرة وبقي له دور وعقار بالبصرة قيل: البصرة لا تبقى وطنا له لأنه إنما كانت وطنا له بالأهل لا بالعقار ألا ترى أنه لو تأهل ببلدة ولم يكن عقار صارت وطنا له وقيل تبقى وطنا له لأنه كانت وطنا له بالأهل والدار جميعا فبزوال أحدهما لا يرتفع الوطن كموطن الإقامة يبقى ببقاء الثقل.اهـ (باب صلاة المسافر، ج: 1، ص: 164، ط: دار الطباعة العامرة بتركيا عام 1328)
جاۓ ملازمت و تدریس میں پندرہ یوم سےکم ٹھہرنے کی مستقل ترتیب کی صورت میں قصرو اتمام کا مسئلہ
یونیکوڈ نماز قصر 0سفرِ شرعی کی نیت سے ، گاؤں سے نکلتے وقت ، احکامِ سفر شروع ہونے کی ابتداء اور واپسی پر انتہاء کی حدود
یونیکوڈ نماز قصر 0تربیت کے لۓ فوجی دستے کا جنگل یا صحرا میں پندرہ یوم سے زائد ٹھہرنے کی صورت میں ، قصر و اتمام کے احکامات
یونیکوڈ نماز قصر 4