السلام علیکم ! پلیز میرے لئے این ایف ٹی کی وضاحت کریں اسلامی قانون کی بنیاد پر، این ایف ٹی کی خرید و فروخت سے حاصل ہونے والا منافع حلال ہے یا حرام ؟ میں ایک ایسی ایپ استعمال کرتا ہوں جو (NFT) تجارت پر پیسہ کماتی ہے، آپ ہر وقت منافع حاصل نہیں کر سکتے ہیں، کبھی کبھار نقصان بھی ہوتا ہے، (NFT) ٹریڈنگ کے ذریعے پیسہ کمانا صحیح ہے یا غلط ؟ پلیز جواب دیں۔
نان فنجیبل ٹوکن (NFT) ایک ڈیجیٹل ٹوکن ہے جو آن لائن اثاثوں اور حقوق کی نمائندگی کرتا ہے، جیسے تصاویر، ویڈیوز، گیمز کے کردار، میوزک اور پینٹنگز وغیرہ۔ لیکن NFT کے ذریعے ہونے والے لین دین میں کئی شرعی خرابیاں پائی جاتی ہیں: مثلاً اکثر ناجائز چیزوں (خواتین کی تصاویر، میوزک وغیرہ) کی خرید و فروخت، حقیقی خرید و فروخت کے بجائے کمیشن اور رائلٹی پر مبنی کاروبار، مصنوعی طور پر قیمتیں بڑھا کر دکھاوے کی تجارت، اور یہ سب زیادہ تر ڈیجیٹل کرنسی کے ذریعے ہونا، جو پہلے ہی شرعی طور پر مشتبہ اور مفاسد سے بھر پور ہے۔ شریعت کے مطابق خرید و فروخت اسی وقت جائز ہوتی ہے جب چیز حقیقتاً مالِ متقوم ہو، فروخت کرنے والے کی ملکیت اور قبضے میں ہو، خریدار کو اس کے تمام حقوق ملیں اور اس کا استعمال جائز ہو۔ چونکہ NFT میں یہ شرائط پوری نہیں ہوتیں، اس لئے NFT کے ذریعے خرید و فروخت اور پیسہ کمانا ناجائز ہے، اس سے بچنا ضروری ہے۔
كما في بدائع الصنائع: ومنها: وهو شرطُ انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكًا للبائع عند البيع، فإن لم يكن لا ينعقد... وهذا بيع ما ليس عنده، ونهى رسول الله ﷺ عن بيع ما ليس عند الإنسان... (ومنها) القبض في بيع المشتري المنقول، فلا يصح بيعه قبل القبض؛ لما روي أن النبي ﷺ «نهى عن بيع ما لم يُقبض» الخ( کتاب البیوع ، فصل فی الشرط الذی یرجع الی المعقود علیہ ،ج: 5 ، ص: 146، ط: سعید)۔
وفي الدر المختار: وشرعا: (مبادلة شيء مرغوب فيه بمثله) خرج غير المرغوب كتراب وميتة ودم على وجه) مفيد. (مخصوص) أي بإيجاب أو تعاط، فخرج التبرع من الجانبين والهبة بشرط العوض، وخرج بمفيد ما لا يفيد الخ ( کتاب البیوع ، ج: 4 ، ص: 502 ، ط: سعید)۔