میں بائپولر (ذہنی بیماری) اور دوسرے دیگر امراض کا مریض ہوں، اور ڈاکٹروں کی تجویز کردہ دوائیں کھا رہا ہوں۔ اس بیماری کی وجہ سے میں ہسپتال میں داخل بھی رہا ہوں۔ دواؤں کے بہت سے سائیڈ ایفیکٹس ہیں جو میں برداشت کر رہا ہوں۔ بائپولر کی بیماری کی وجہ سے میرا ایک حادثہ بھی ہو چکا ہے، اور ایک نوکری بھی جا چکی ہے۔ میری بعض باتیں عقل مندوں کی طرح ہیں اور بعض مجنونوں کی طرح، دوائیں کھانے کے باوجود مجھے مہینے میں ایک یا دو بار دورہ پڑتا ہے، اور میری طبیعت خراب ہو جاتی ہے، اور ذہن میں مختلف سوچیں چلنے لگتی ہیں۔ یادداشت بھی کمزور ہوتی جا رہی ہے۔ کیا میں شریعت کے احکام کا مکلف ہوں؟
واضح ہو کہ اس قسم کے مریض کے متعلق شرعی حکم اس کی بیماری کی کیفیت و شدت معلوم کرنے کے بعد ہی دیا جا سکتا ہے۔ یہاں طبی ماخذ کی روشنی میں اس بیماری کی عمومی نوعیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اصولی حکم بیان کیا جاتا ہے۔
بائی پولر ڈس آرڈر ایک ایسا ذہنی مرض ہے جس میں مریض کو کبھی ہوش و ادراک حاصل ہوتا ہے اور کبھی شدید کیفیت میں عقل وشعور عارضی طور پر موقوف ہو جاتا ہے۔ شریعت کا اصول ہے کہ تکلیف کا مدار عقل پر ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:
رفع القلم عن ثلاثة… وعن المعتوه حتى يعقل (ترمذی)
یعنی عقل زائل ہونے کی حالت میں شرعی ذمہ داری ساقط ہو جاتی ہے۔
لہٰذااس قسم كے مريض كا شرعی حکم یہ ہے:
1. عام حالتوں میں جب مریض کو شعور و ادراک حاصل ہو اور وہ اپنے افعال پر قابو رکھ سکے، اس وقت وہ نماز، روزہ اور دیگر احکامِ شرع کا مکلف ہے۔
2. شدید مَینیا یا ڈپریشن کی حالت میں جب مریض کی عقل ماؤف ہو جائے، ادراک ختم ہو جائے یا اُس کے افعال پر اس کا قابو نہ رہے، اس وقت وہ شرعاً معذور ہے اور اس پر کوئی عبادت لازم نہیں۔
3. اگر عقل زائل ہونے کی کیفیت پانچ نمازوں سے زائد برقرار رہے تو افاقہ کے بعد بھی ان نمازوں کی قضاء لازم نہیں۔
4. اگر یہی کیفیت پورے رمضان یا زیادہ دنوں تک قائم رہے تو صحت یابی کے بعدروزوں کی قضاء لازم نہ ہوگی ۔
5. البتہ اگر شدید کیفیت ایک ماہ سے کم رہی ہو تو افاقہ کے بعد جتنے روزے چھوٹے ہوں ان کی قضاء لازم ہوگی۔
لہذاصورت مسئولہ میں سائل نے اپنی جوکیفیت سوال میں درج کی ہے، اگروہ حقیقت پرمبنی ہوتواس قسم کے مرض کی حالت میں عام اوقات میں اسے شرعاً مکلف ہی قراردیاجائے گا اورمعمول کے مطابق تمام فرائض وعبادات کی انجام دہی کاپابندہوگا، تاہم جس وقت بیماری کے باعث عقل و شعور ماؤف ہو جائے، اس وقت وہ معذور قرارپائے گا اوراوپرذکرکردہ شریعت کی دی گئی رخصتوں پرعمل کرنے کامجازہوگا۔
کما قال اللہ تعالیٰ : ( لا یکلف اللہ نفساً إلا وسعھا ) ( البقرۃ : 286 )-
وفی جامع الترمذی: عن علي أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «رفع القلم عن ثلاثة عن النائم حتى يستيقظ،» وعن الصبي حتى يشب، وعن المعتوه حتى يعقل.(باب ماجاء فیمن لا یجب علیہ الحد، ج: 3،ص: 93، ناشر:دار الغرب الاسلامی)-
وفی الدر المختار: (والمجنون) ھو اختلاف القوۃ التی بھا إدراک الکلیات تلویح، و بہ علم تعریف العقل أنہ القوۃ المذکورۃ إلخ
وفی رد المحتار تحت (قولہ تلویح) قال فی البحر: و فی التلویح: الجنون اختلال القوۃ الممیزۃ بین الأشیاء الحسنۃ والقبیحۃ المدرکۃ للعواقب انتھیٰ إلخ (ج 5، ص 9، ط: سعید)-
وفی الدر المختار أیضاً:(و من جن أو أغمی علیہ) و لو بفزع من سبع أو آدمی (یوماً و لیلۃ قضی الخمس و إن زاد وقت صلاۃ) سادسۃ (لا) للحرج إلخ
وفی رد المحتار تحت (قولہ و من جن أو أغمی علیہ) الجنون آفۃ تسلب العقل والإغماء آفۃ تسترہ (قولہ وقت صلاۃ) مرفوع علی أنہ فاعل (إلی قولہ) واعتبر الزیادات بالأوقات علی قول الثالث وھو الأصح وعند الثانی بالساعات وکل روایۃ عن الإمام فإذا أصابہ ذالک قبل الزوال ثم أفاق من الغد بعدہ قبل خروج الوقت سقط القضاء عند الثانی لا الثالث بحر والمراد بالساعات الأزمنۃ لا ما تعارفہ أھل النجوم درر أی من کون الساعۃ خمس عشرۃ درجۃ فالمراد عند الثانی الزیادۃ بشئ من الزمان وإن قل کما فی غرر الأذکار والبرجندی اسمٰعیل إلخ (ج 2، ص 102، ط: سعید)-
وفی الدر المختار أیضاً:(و فی الجنون إن لم یستوعب) الشھر (قضی) ما مضی (وإن استوعب) لمجیع ما یمکنہ إنشاء الصوم فیہ علی ما مر (لا) یقضی مطلقاً إلخ
وفی رد المحتار تحت (قولہ لا یقضی مطلقاً) أی سواء کان الجنون أصلیاً أو عارضاً بعد البلوغ، قیل ھذا ظاھر الروایۃ و عند محمد أنہ فرق بینھما لأنہ إذا بلغ مجنوناً التحق بالصبی فانعدم الخطاب، بخلاف ما إذا بلغ عاقلاً فجن وھذا مختار بعض المتأخرین ھدایۃ قال فی العنایۃ منھم أبو عبد اللہ الجرجانی والإمام الرستغفنی والزاھد الصفار اھ وفی الشرنبلالیۃ عن البرھان عن المبسوط لیس علی المجنون الأصلی قضاء ما مضی فی الأصح اھ أی ما مضی من الأیام قبل إفاقتہ إلخ (ج 2، ص 432، ط: سعید)-
وفی فقہ الإسلامی و أدلتہ: واختلف أبو یوسف و محمد فی حد جنون المطبق، فقال أبو یوسف: ھو ما استوعب شھراً لأن الشھر یسقط بہ شھر رمضان، و قال محمد : ھو ما استوعب حولاً کاملاً ، ولأن الحول یسقط بہ جمیع العبادات فیقدر بہ احتیاطاً، قال قاضی زادہ تکملۃ فتح القدیر: والمختار ما قالہ أبو حنیفۃ أنہ مقدر بالشھر؛ لأن ما دون الشھر فی حکم العاجل، فکان قصیراً والشھر فصاعداً فی حکم الآجل فکان طویلاً قال صاحب الدرر: وبہ یفتیٰ إلخ (ج 4، ص 797، ط مکتبۃ رشیدیۃ)-