کیا موت کا دن، جگہ اور وقت مقرر ہے؟ بعض سکالرز/مقررین کے انٹرنیٹ پر بیانات موجود ہیں کہ انسان کے اقدامات کی وجہ سے موت کا وقت وغیرہ تبدیل ہو سکتاہے جیسا کہ مغربی ممالک نےطب کے شعبہ میں ترقی کی جس کی وجہ سے وہاں کے لوگوں کی شرح اموات نسبتاً ہمارے ملک سے کم ہے۔ اسی طرح اگر ہمارا کوئی پیارا مر جائے تو بعد میں ہم کہتے ہیں کہ یہ چیز اس کی صحت کے لئے اچھی تھی میں نہ کر پایا یا میں نے نہ کی اگر میں کر دیتا تو شائد اس کی زندگی بچ جاتی تو کیا اس مرنے والے کی موت کا ذمہ دار وہ شخص ہوتا ہے جس نےوہ انتظام بروقت نہ کیا؟برائے مہربانی اس کا جواب عنائیت فرمادیں۔ جزاک اللہ
واضح ہوکہ موت کا وقت، جگہ اور کیفیت شریعت کی رو سے قطعی طور پر مقدر اور متعین ہیں، ان میں کسی قسم کی تقدیم و تأخیر ممکن نہیں۔
چنانچہ قرآنِ کریم میں ہے: وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَل فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَأۡخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ 34ﵞ
ترجمہ:پس جب ان کی مقررہ میعادآجاتی ہے تو وہ گھڑی بھربھی اس سے آگے پیچھے نہیں ہوسکتے۔
اس آیتِ کریمہ سے صراحت کے ساتھ معلوم ہوا کہ انسان کی موت کا عین لمحہ اور اس کے ساتھ اس کی جگہ اور کیفیت اللہ تعالیٰ کے علمِ ازلی اور تقدیر میں پہلے ہی سے مقرر ہوتے ہیں۔ اس حقیقت میں کسی کمی کوتاہی سے تبدیلی یا کسی تدبیرسے اضافہ ممکن نہیں ہے۔ بہتر ین طبی سہولیات اگرچہ صحت مند زندگی حاصل کرنے کے اسبابِ ضروریہ میں سے ہیں، مگر اس کی وجہ سے موت کے مقررہ وقت میں تعجیل یاتاخیرنہیں ہوسکتی،اور یہ بات روزِ مرہ مشاہدہ میں آتی رہتی ہے کہ بہت سے صحت مند افراد بھی اچانک موت کی آغوش میں چلے جاتےہیں، لہذا بعض مقررین یا اسکالرز کا یہ کہنا کہ انسانی احتیاط یا طبی ترقی سے موت کے وقت میں تبدیلی ہو سکتی ہے، شرعی نصوص کے خلاف ہے۔دنیاوی اسباب اختیار کرنے سے بظاہر علاج کامیاب ہو جاتا ہے یا حادثہ ٹل جاتا ہے، لیکن حقیقت یہ ہے کہ یہ سارا نظام بھی تقدیر ہی کا حصہ ہوتا ہے۔یعنی کون علاج کروائے گا، کس کو علاج میسر آئے گا، کس کو فائدہ ہوگا اور کس کو نہیں ،یہ سب نتائج بھی موت کی تعیین میں کوئی تبدیلی نہیں کرسکتے، بلکہ اسی لکھے ہوئے وقت تک پہنچانے کے اسباب ہوتے ہیں ۔ جبکہ مغربی ممالک میں بہتر سہولیات کی وجہ سے اموات کی شرح کم نظر آنے سے یہ نتیجہ اخذکرناکہ ان ممالک کے افراد کی اجل بڑھ گئی ہے ٌدرست نہیں، بلکہ اسبابِ صحت بھی تقدیر کا ہی حصہ ہیں۔ہر فرد(خواہ وہ ترقی یافتہ ملک میں ہو یاغیر ترقی پذیر ملک میں) اپنی متعین اجل پر ہی فوت ہوتا ہے ۔ اگر کسی مریض کے مرنے کے بعد یہ خیال آئے کہ”اگر میں یہ علاج کرا دیتا تو اس کی جان بچ جاتی“ تو یہ خیال شرعاً غلط اور علمی و عقلی لحاظ سے بے بنیاد ہے۔کیونکہ کوئی انسان کسی دوسرے کی موت کا اصل سبب نہیں بنتا،موت کا اصل سبب وہی ہوتا ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقدر کیا ہو،اسباب کا پیدا ہونا یا نہ ہونا بھی اللہ کے فیصلے کے مطابق ہوتا ہے۔لہٰذا کسی شخص کو یہ سمجھنا کہ ”میرے نہ کرنے سے وہ مر گیا“یہ وسوسہ اور غلط فہمی ہے،اگرچہ بلاارادہ اس قسم کے وسوسہ پر شریعت میں کوئی مواخذہ نہیں۔
تاہم یہ بات بھی ملحوظ رہنی چاہیے کہ اسباب اختیار کرنا شریعت میں مطلوب ہے۔انسان علاج کرے، کوشش کرے، احتیاط کرے،یہ اس کی شرعی ذمہ داری ہے۔لیکن عقیدہ یہ ہوکہ ان اسباب کی وجہ سے کسی شخص کی زندگی اورموت کے فیصلہ میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوسکتی ،ان اسباب کا نتیجہ ہمیشہ اللہ کے حکم کے مطابق ہی نکلتا ہے۔
لہٰذا کسی انسانی جان کے ضیاع میں اگرکسی دوسرے انسان کی تعدی یا ظاہری کوتاہی ثابت ہوجائے تبھی اسے ذمہ دار قرار دیا جاسکتاہے، البتہ اگرکوئی تعدی یا ظاہری کوتاہی ثابت نہ ہوتو فقط فرضی سبب یا ذہنی تصور وغیرہ کوبنیاد بناکراس فردکوذمہ دارقراردینا تقدیرِ الٰہی کے انکار کےمترادف ہے جو شرعاً جائز نہیں ،جس احترازچاہیے۔
کما قال اللہ تعالیٰ: وَلَن يُؤَخِّرَ اللَّهُ نَفۡسًا إِذَا جَآءَ أَجَلُهَا وَاللَّهُ خَبِيرُ بِمَا تَعۡمَلُونَ، (سورۃ المنافقون، الآیۃ: 11)-
وقال تعاليٰ: وَلِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَل، فَإِذَا جَآءَ أَجَلُهُمۡ لَا يَسۡتَأخِرُونَ سَاعَةٗ وَلَا يَسۡتَقۡدِمُونَ، (سورۃ الأعراف، الآیۃ: 34)-
وقال ایضاً: وَمَا كَانَ لِنَفْسٍ أَنْ تَمُوتَ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ كِتَابًا مُؤَجَّلًا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الدُّنْيَا نُؤْتِهِ مِنْهَا وَمَنْ يُرِدْ ثَوَابَ الْآخِرَةِ نُؤْتِهِ مِنْهَا وَسَنَجْزِي الشَّاكِرِينَ،(سورۃ آل عمران، الآیۃ: 145)-
وفی المرقاۃ: وعن مطر بن عكامس رضي الله عنه قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "إذا قضى الله لعبد أن يموت بأرض جعل له إليها حاجة" رواه أحمد، والترمذي، (کتاب الإیمان، باب الإیمان بالقدر، ج 1، ص 183، المرقم: 110، ط:
و فی صحیح البخاری: عن أسامة بن زيدؓ،"أن ابنة للنبي صلى الله عليه وسلم أرسلت إليه وهو مع النبي صلى الله عليه وسلم وسعد وأبي نحسب أن ابنتي قد حضرت، فاشهدنا فأرسل إليها السلام ويقول: إن لله ما أخذ وما أعطى وكل شيء عنده مسمى، فلتحتسب ولتصبر، فأرسلت تقسم عليه فقام النبي صلى الله عليه وسلم وقمنا، فرفع الصبي في حجر النبي صلى الله عليه وسلم ونفسه تقعقع، ففاضت عينا النبي صلى الله عليه وسلم، فقال له سعد: ما هذا يا رسول الله، قال: هذه رحمة وضعها الله في قلوب من شاء من عباده، ولا يرحم الله من عباده إلا الرحماء، (باب عیادۃ الصبیان، ج: 7، ص: 117، ط: دار طوق النجاۃ )-
و فی صحیح مسلم: عن أسامة بن زيدؓ، قال: "كنا عند النبي صلى الله عليه وسلم، فأرسلت إليه إحدى بناته تدعوه، وتخبره أن صبيا لها، أو ابنا لها، في الموت، فقال للرسول: ارجع إليها، فأخبرها: أن لله ما أخذ وله ما أعطى، وكل شيء عنده بأجل مسمى، فمرها فلتصبر ولتحتسب، فعاد الرسول، فقال: إنها قد أقسمت لتأتينها، قال: فقام النبي صلى الله عليه وسلم، وقام معه سعد بن عبادة، ومعاذ بن جبل، وانطلقت معهم، فرفع إليه الصبي ونفسه تقعقع كأنها في شنة، ففاضت عيناه، فقال له سعد: ما هذا يا رسول الله؟ قال: هذه رحمة، جعلها الله في قلوب عباده، وإنما يرحم الله من عباده الرحماء . (باب البکاء علی المیت، ج: 3،ص: 39، ط: دار الطباعۃ العامرۃ ترکیا)-
وفی سنن الترمذی: عن أبي هريرة قال: خرج علينا رسول الله صلى الله عليه وسلم ونحن نتنازع في القدر فغضب حتى احمر وجهه، حتى كأنما فقئ في وجنتيه الرمان، فقال: "أبهذا أمرتم أم بهذا أرسلت إليكم؟ إنما هلك من كان قبلكم حين تنازعوا في هذا الأمر، عزمت عليكم ألا تتنازعوا فيه"( باب ماجاء فی التشدید فی الخوض فی القدر، ج:4، ص: 443، ط: مطبعۃ مصطفی البابی الحلبی)-