السلا م علیکم !
گھر میں 4 لوگ کماتے ہیں اور قربانی والدہ پر فرض ہے کیوں کہ وہ نصاب کی مالک ہیں اور سب کما کر پیسے والدہ کو دیتے ہیں تو کیا سب کے پیسے ملا کر والدہ قربانی کرسکتی ہیں یا نہیں؟ والدہ کے علاوہ کوئی بھی نصاب کا مالک نہیں ہے کسی پر بھی قربانی اور زکوٰۃ فرض نہیں سوائے والدہ کے ،مہربانی کر کے جواب عنایت فرمادیں جزاک اللهَ۔
اگر سب بیٹے پیسے کما کر مالکانہ طور پر پیسے والدہ کو دیتے ہوں تو ایسی صورت میں شرعاً والدہ ان کی مالک بن جاتی ہے، چنانچہ والدہ کیلئے ان پیسوں سے قربانی کرنا بلا شبہ جائز ہوگا ۔
کما فی البزازیۃ بھامش الھندیۃ:قال الامام رضی اللہ تعالی:من ملک ماتی درھم او عرضا یساویہ غیر مسکنہ وثیابہ الذی یلبسہ والمتاع الذی لایحتاج الیہ الی ان لا یذبح الاضحیۃ یجب علیہ الخ( ج9 ص34 )۔
وفی بدائع الصنائع: وأما حكم الهبۃ (الی قولہ) أما أصل الحكم فهو ثبوت الملك للموهوب له في الموهوب من غير عوض الخ(ج 6 ص 127 ط:سعید)۔