السلام علیکم! کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس شخص کے بارے میں جو باجوڑ میں رہتا ہے اور حالیہ دنوں میں کراچی میں مسافر ہو کر کام کرتا ہے، جبکہ قربانی میں باجوڑ میں شرکاء کے ساتھ شریک ہے ،چونکہ باجوڑ والے سعودی عرب کے ساتھ عید مناتے ہیں، اب اگر شرکا پہلے دن قربانی کریں تو کراچی والے شریک کی قربانی ہوتی ہے یا نہیں کراچی میں توعید ایک دن بعد منائی جاتی ہے۔
واضح ہو کہ کسی جگہ مقیم شخص اگر اقامت کی جگہ کے علاوہ دوسرے ملک و شہر میں قربانی کرنا چاہتا ہو ،تو ایسی صورت میں قربانی درست ہونے کے لیے دونوں جگہ قربانی کا دن ہونا شرعا ضروری ہے، لہذا سائل کا باجوڑ میں اپنی قربانی کرنے کی صورت میں قربانی ایسے دن کرنا لازم ہوگی جس دن کراچی میں بھی عید ہو، بصورت دیگر باجو ڑمیں ملک پاکستان کے دیگر شہروں سے ایک دن قبل عید مناتے ہوئے قربانی کا جانور ذبح کرنے سے سائل کی قربانی درست ادا نہ ہوگی۔
کما فی بدائع الصنائع: وإن كان الرجل في مصر وأهله في مصر آخر فكتب إليهم أن يضحوا عنه روي عن أبي يوسف أنه اعتبر مكان الذبيحة فقال: ينبغي لهم أن لا يضحوا عنه حتى يصلي الإمام الذي فيه أهله، وإن ضحوا عنه قبل أن يصلي لم يجزه، وهو قول محمد - عليه الرحمة - وقال الحسن بن زياد: انتظرت الصلاتين جميعا وإن شكوا في وقت صلاة المصر الآخر انتظرت به الزوال فعنده لا يذبحون عنه حتى يصلوا في المصرين جميعا، وإن وقع لهم الشك في وقت صلاة المصر الآخر لم يذبحوا حتى تزول الشمس فإذا زالت ذبحوا عنه.
(وجه) قول الحسن أن فيما قلنا اعتبار الحالين حال الذبح وحال المذبوح عنه فكان أولى ولأبي يوسف ومحمد رحمهما الله أن القربة في الذبح، والقربات المؤقتة يعتبر وقتها في حق فاعلها لا في حق المفعول عنه، ويجوز الذبح في أيام النحر نهرها ولياليها؛ وهما ليلتان: ليلة اليوم الثاني وهي ليلة الحادي عشر، وليلة اليوم الثالث وهي ليلة الثاني الخ(ج5 ص74)۔
وفیھا ایضآ: فصل وأما وقت الوجوب فأيام النحر فلا تجب قبل دخول الوقت؛ لأن الواجبات المؤقتة لا تجب قبل أوقاتها كالصلاة والصوم ونحوهما، وأيام النحر ثلاثة: يوم الأضحى - وهو اليوم العاشر من ذي الحجة - والحادي عشر، والثاني عشر وذلك بعد طلوع الفجر من اليوم الأول إلى غروب الشمس من الثاني عشر الخ( ج5 ص65)۔