السلام علیکم! میں ایک کال سینٹر میں کام کرتا ہوں، ہمارا کام یہ ہوتا ہے کہ ہم غیر ملکی ناموں جیسے David، Jake وغیرہ سے جعلی فیس بک آئی ڈیز بناتے ہیں، جو کہ امریکہ میں رہنے والوں کے نام پر ہوتی ہیں، حالانکہ ہم پاکستان میں رہتے ہیں، ہم ان کے شہروں کے گروپس جوائن کرتے ہیں اور وہاں اپنی سروسز جیسے کہ کار ڈیٹیلنگ، ڈکٹ کلیننگ وغیرہ کی پوسٹس کرتے ہیں، ہم کسی کو دھوکہ نہیں دیتے، سروسز بھی فراہم کرتے ہیں، لیکن جھوٹ بولتے ہیں کہ ہم کہاں رہتے ہیں اور ہمارا نام کیا ہے۔ کیا یہ آمدنی حلال ہے؟
واضح ہوکہ دھوکہ دہی اور جھوٹ بولنا شرعا ناجائز اور حرام ہے،جس سے احتراز لازم ہے ،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل کے لیے حقیقی نام کے علاوہ جعلی نام سے آئی ڈیز بناکر کلائنٹس کو سہولیات فراہم کرنا شرعاً جعل سازی اور دھوکہ دہی اور جھوٹ پر مشتمل ہونےکی بنا پر جائز نہیں، اس لئے سائل کو چاہیئے کہ فی الفور اس کام کوچھوڑدے ،تاہم اب تک جھوٹی آئی ڈیز سے حاصل ہونے والا نفع چونکہ کام کی اجرت ہے،اس لئے اگرسائل نے کلائنٹس کو ان کا مطلوبہ کوئی جائز کام کر کے دیا ہوتو وہ منافع اس کےلئےحلال ہے اس کو اپنے استعمال میں لانے کی گنجائش ہے ورنہ نہیں ۔
کمافی الصحیح لمسم: عن أبي هريرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: من حمل علينا السلاح فليس منا، ومن غشنا فليس منا الخ(کتاب الایمان، باب قول النبي صلى الله عليه تعالى وسلم: من غشنا فليس منا،ح101،ج1،ص69،ط:دار الطباعۃ العامرۃ)
وفی مسند للامام احمد ؒ :حدثنا وكيع، وأبو معاوية، قالا: حدثنا الأعمش، عن أبي وائل، عن عبد الله، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " إياكم والكذب، فإن الكذب يهدي إلى الفجور، والفجور يهدي إلى النار، وإن الرجل ليكذب، حتى يكتب عند الله كذابا ". وقال: قال النبي صلى الله عليه وسلم: " عليكم بالصدق، فإن الصدق يهدي إلى البر، وإن البر يهدي إلى الجنة، وإنه - يعني: الرجل - ليصدق ويتحرى الصدق، حتى يكتب عند الله صديقا ". قال أبو معاوية: " وما يزال الرجل يصدق ويتحرى الصدق الخ(ح4108،ج7،ص182،ط:مؤسسۃ الرسالۃ)
و فی البدائع: أما الاوّل : فھو ثبوت الملک فی المنفعۃ للمستاجر و ثبوت الملک فی الاجرۃ المسماۃ لللآجر ، لانھا عقد معاوضۃ إذ ھی بیع المنفعۃ ، و البیع عقد معاوضۃ فیقتضی ثبوت الملک فی العوضین الخ (کتاب الاجارۃ، فصل فی حکم الاجارۃ، ج 6، ص36، ط: دار النشر کراچی)۔