والدین صاحب استطاعت ہیں، قربانی ذاتی پیسوں سے کرسکتے ہیں، لیکن بیٹے کا اصرار ہے کہ آپ دونوں کے حصے کے پیسے میں دوں گا، کیا یہ جائز قربانی ہوگی؟
واضح ہو کہ صاحب نصاب شخص خود بھی قربانی کرسکتا ہے اور اس کی اجازت سے کوئی دوسرا شخص بھی اس کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے، چنانچہ صورت مسئولہ میں بیٹے کا اپنے والدین کی طرف سے قربانی کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہے، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں۔
کما فی ابی داؤد: عن حنش، قال: رأيت عليا يضحي بكبشين فقلت له: ما هذا؟ فقال: «إن رسول الله صلى الله عليه وسلم أوصاني أن أضحي عنه فأنا أضحي عنه»(ج3 ص 94 باب الأضحیۃ عن المیت ط عصریۃ بیروت)۔
وفی ردالمحتار: تحت (قوله على الظاهر) قال في الخانية: في ظاهر الرواية أنه يستحب ولا يجب، بخلاف صدقة الفطر. وروى الحسن عن أبي حنيفة يجب أن يضحي عن ولده وولد ولده الذي لا أب له، والفتوى على ظاهر الرواية اهـ ولو ضحى عن أولاده الكبار وزوجته لا يجوز إلا بإذنهم. وعن الثاني أنه يجوز استحسانا بلا إذنهم بزازية. قال في الذخيرة: ولعله ذهب إلى أن العادة إذا جرت من الأب في كل سنة صار كالإذن منهم، فإن كان على هذا الوجه فما استحسنه أبو يوسف مستحسن الخ( ج6 ص315 کتاب الأضحیۃ ط سعید)۔