السلام علیکم!جناب میں نے مسئلہ کے حوالے سے سوال کرنا ہے۔مسئلہ یہ ہے کہ قربانی کے بڑے جانور میں 7 حصوں سے کم قربانی نہیں کرسکتے جیسے کہ 3٫4٫ یا 5 حصے کی قربانی نہیں ہوتی بڑے جانور میں لہذا آپ مجھے اس بارے میں کچھ معلومات دیں۔ بہت شکریہ۔
واضح ہو کہ بڑے جانور (گائے، اونٹ اور بھینس) میں قربانی کے سات حصے کرنا شرعالازم اور ضروری نہیں، بلکہ سات سے کم حصے کرنا بھی بلاشبہ جائز اور درست ہے، البتہ زیادہ سے زیادہ سات حصے متعین کئے جاسکتے ہیں، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے لئے بڑے جانور میں دو دو ،تین تین یا تین دو حصے ڈال کر قربانی کرنا شرعاً جائز اور درست ہے،اس میں کوئی ممانعت نہیں ۔
کما فی بدائع الصنائع: ولا يجوز بعير واحد ولا بقرة واحدة عن أكثر من سبعة ويجوز ذلك عن سبعة أو أقل من ذلك، وهذا قول عامة العلماء
(الی قولہ) ولا شك في جواز بدنة أو بقرة عن أقل من سبعة بأن اشترك اثنان أو ثلاثة أو أربعة أو خمسة أو ستة في بدنة أو بقرة؛ لأنه لما جاز السبع فالزيادة أولى الخ(5 / 70)۔