والدین کی قربانی بیٹا اپنی جیب سے کر سکتا ہے؟ اور اسی طرح اپنی بیٹی ،بیوی کی بھی قربانی؟ ذرا وضاحت کریں۔
واضح ہو کہ صاحبِ نصاب شخص اپنے ذمہ واجب قربانی کی ادائیگی کرنے کے ساتھ اگر اپنے والدین، بیٹی یا بیوی وغیرہ کی طرف سے قربانی کرنا چاہے تو بلاشبہ کرسکتاہے، مگر جس صاحبِ نصاب افراد کی جانب سے یہ فریضہ انجام دے رہا ہو، ان سے اجازت لینا یا ان کو پیشگی اطلاع دینا ضروری ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص کے والدین اور بیوی بچے صاحبِ نصاب ہوں ،تو ان سے اجازت لے کر یا پیشگی اطلاع دے کر ان کی طرف سے قربانی کرسکتا ہے۔
کما فی رد المحتار: ولو ضحى عن أولاده الكبار وزوجته لا يجوز إلا بإذنهم. وعن الثاني أنه يجوز استحسانا بلا إذنهم بزازية. قال في الذخيرة: ولعله ذهب إلى أن العادة إذا جرت من الأب في كل سنة صار كالإذن منهم اھ (ج6،صـــ315،ط:سعید)۔
وفی الفتاوی الھندیۃ: ولو ضحى ببدنة عن نفسه وعرسه وأولاده ليس هذا في ظاهر الرواية وقال الحسن بن زياد في كتاب الأضحية: إن كان أولاده صغارا جاز عنه وعنهم جميعا في قول أبي حنيفة وأبي يوسف - رحمهما الله تعالى -، وإن كانوا كبارا إن فعل بأمرهم جاز عن الكل في قول أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله تعالى اھ (ج5،صـــ302،ط:ماجدیہ)۔