ایک عورت کے پاس پانچ تولہ سونا ہے، کیا اس پر قربانی واجب ہے؟
قربانی ہر اس عاقل بالغ شخص پر لازم ہے جس کی ملکیت میں عید کے تین دنوں میں قرضہ جات اور واجب الادا رقوم منہا کرنے کے بعد ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر مال تجارت، نقدی اور ضرورت سے زائد سامان موجود ہو تو ایسا شخص صاحبِ نصاب کہلائے گا، اور اس پر قربانی لازم ہوگی،لہٰذا صورتِ مسئولہ میں مذکور عورت کے پاس اگر سونے کے ساتھ چاندی ،مال تجارت،نقدی اور ضرورت سے زائد سامان اگر ہو تو چونکہ مجموعہ کی مالیت بقدرِ نصاب ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر ہوجائیگی اور وہ عورت صاحب نصاب کہلائے گی لہٰذا اس عورت پر قربانی واجب ہوگی۔
وفی الدرالمختار: وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به) وجوب (صدقة الفطر) الخ
وفی ردالمحتار: (قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية الخ(ج۶، ص۳۱۲)۔