السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ:
قربانی کب اور کس پر لازم ہے؟ اگر کوئی شخص مقروض ہو یا اس کو مالی تنگی ہو یا پلاٹوں میں پیسے پھنسے ہوئے ہوں ، نقصان ہو،تو اسکے لئے قربانی کی کیا حکم ہے؟براہِ کرم رہنمائی فرمائیں۔
واضح ہو کہ قربانی ہر اس عاقل بالغ اور مقیم مسلمان (مرد و عورت) پر لازم ہے ،جس کی ملکیت میں قربانی کے ایام میں قرض منہا کرنے کے بعد " ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی"یا اس کی قیمت کے بقدر نقدی، مالِ تجارت ، یا ضروریاتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود ہو ، یا ان سب کا مجموعہ بقدرِ نصاب ہو ،تو وہ شخص صاحبِ نصاب کہلائیگا اور اس پر قربانی لازم ہو گی ورنہ نہیں۔
کما فی الھندیۃ: (وأما) (شرائط الوجوب) : منها اليسار وهو ما يتعلق به وجوب صدقة الفطر دون ما يتعلق به وجوب الزكاة (إلی قولہ) والموسر في ظاهر الرواية من له مائتا درهم أو عشرون دينارا أو شيء يبلغ ذلك سوى مسكنه ومتاع مسكنه ومركوبه وخادمه في حاجته التي لا يستغني عنها الخ (کتاب الأضحیۃ الباب الأول ج 5 صـ 292 ط: ماجدیۃ)
وفیھا ایضاً: ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب، وكذا لو كان له مال غائب لا يصل إليه في أيامه، ولا يشترط أن يكون غنيا في جميع الوقت حتى لو كان فقيرا في أول الوقت، ثم أيسر في آخره تجب عليه، ولو كان له مائتا درهم فحال عليها الحول فزكى خمسة دراهم، ثم حضر أيام النحر وماله مائة وخمسة وتسعون لا رواية فيه، ذكر الزعفراني أنه تجب عليه الأضحية الخ (کتاب الأضحیۃ الباب الأول ج 5 صـ 292 ط: ماجدیۃ)