السلام علیکم !جناب! میرا سوال یہ ہے کہ ابھی عید الاضحی میں قربانی کا وقت بھی آپہنچا ہےاور فلسطین کی حالت بھی بہت غمناک ہے،تو کیا ہم مسلمان اپنی قربانی کی تمام رقم فلسطین کی امداد میں وقف کرسکتے ہیں ؟قربانی مؤخر کرنے کا گناہ تو نہیں ہوگا؟ ایسے حالات میں قربانی زیادہ ضروری ہے یا مسلمانوں کی امداد زیادہ ضروری ہے؟یہ سوال اس لیے پوچھ رہا ہوں کہ جنگوں میں احکام بدل جایا کرتے ہیں،براہِ مہربانی رہنمائی فرمائیں؟
واضح ہوکہ صاحبِ نصاب شخص پر ایامِ عید میں قربانی کرنا شرعاً لازم اور ضروری ہے،قربانی کرنے کے بجائے اس رقم کو کسی اور نیک کام میں لگانے سے قربانی کا فریضہ ادا نہ ہوگا،بلکہ وہ بدستور ذمہ پر باقی رہے گا،لہذا صورتِ مسئولہ میں صاحبِ نصاب شخص کو قربانی کرنا لازم ہے،قربانی کے بجائے مذکور رقم فلسطین کے مسلمانوں کی امداد کے لیےبھیجنا درست نہیں،بلکہ اس کے لئے قربانی کے علاوہ دیگر صدقاتِ واجبہ اور صدقاتِ نافلہ سے ان کی مدد کی جائےیا اگر یہ صورت مشکل ہو تو قربانی کا جانور کسی معتبر ادارے کے ذریعہ فلسطین میں ہی ذبح کرنے کے بعد اس کے گوشت سے سالن وغیرہ بناکر پیک کرکے ان کے لیے بھیجا جائے،اس کام کے لیے چند مستند رفاہی ادارے کا کررہے ہیں،ان سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔
کمافی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (ومنها) أن لا يقوم غيرها مقامها حتى لو تصدق بعين الشاة أو قيمتها في الوقت لا يجزيه عن الأضحية؛ لأن الوجوب تعلق بالإراقة والأصل أن الوجوب إذا تعلق بفعل معين أنه لا يقوم غيره مقامه كما في الصلاة والصوم وغيرهما الخ(ج5 ص66 کتاب التضحیۃ ط: سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار، ولا يعتبر فيه وصف النماء ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية، ووجوب نفقة الأقارب هكذا في فتاوى قاضي خان الخ(ج1 ص191 کتاب الزکوۃ ط: ماجدیۃ)۔