میرے دوست نے قربانی کے لئے بکرا خریدا، چند ماہ رکھا تو اس کا سینگ ٹوٹ گیا، اس نے چھوٹی عید پر اس نیت سے فروخت کردیا کہ چند ہزار ڈال کر کسی بڑے جانور میں حصہ ڈال کر قربانی پوری کرے گا ، اب اس کے حالات ایسے ہیں کہ اب قرض میں ڈوبا ہوا ہے، کاروبار صفر ہے، گھر کی روٹی دال بڑی مشکل سے چل رہی ہے ،قرض داروں کی قسطیں بھی ہر ماہ ادا کرتا ہے، گندم بھی ادھار خریدی ہے ، بچی کی شادی کی ہے دو ماہ ہوئے، سب کچھ مجبوری میں بیچ کر اب دو تین لاکھ کا قرض ہے ، مگر اس نے بکرا بیچ کر پیسے رکھے ہیں، مگر اب حالات نہیں کہ اس میں مزید ایڈ کرکے قربانی پوری کرے ،براہِ مہربانی اب ان پیسوں کا کیا کیا جائے؟ خود پر بھی فاقوں کی نوبت ہے، شوگر کا مریض ہے اور اپنے علاج کے پیسے نہیں ہیں۔
سائل کا دوست اگر واقعۃً صاحبِ نصاب نہ رہا ہو، یعنی اب اس کی ملکیت میں قرض منہا کرنے کے بعد ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر مالِ تجارت ، نقدی اور حاجاتِ اصلیہ سے زائد سامان نہ ہو تو اس پر قربانی لازم نہیں۔
کما فی الدر المختار: فلو كان غنيا في أول الأيام فقيرا في آخرها لا تجب عليه الخ ( کتاب الاضحیۃ ج 6 ص 319 ط: سعید )۔
وفی الفتاویٰ التاتارخانیۃ: المختار أن الفقیر لو اشتراھا بنیۃ التضحیۃ فی أیام النحر تصیر التضحیۃ واجبۃ فی حقہ وإن لم یقل بلسانہ شیئاً فی جواب ظاھر الروایۃ الخ ( کتاب الاضحیۃ ج 17 ص 411 )۔