کسی مفتی نے ابھی بیان دیا ہے کہ مرحوم ماں باپ کے نام کی قربانی صرف اس صورت میں قبول ہوگی اگر انہوں نے مرنے سے پہلے وصیت کی ہو، اگر وصیت نہیں کی تو یہ قربانی نہیں، صدقہ کہلائے گا، کیا یہ درست ہے؟
واضح ہو کہ مرحوم والدین کی طرف سے قربانی کر نے کی دو صورتیں ممکن ہیں۔
(1)اگر مرحوم والدین نے قربانی کی وصیت کی ہو اور ترکہ کے ایک تہائی کی حد تک قربانی ہوسکتی ہو تو ورثاء پر والدین کی طرف سے قربانی کرنا شرعاً لازم ہے اور قربانی کا گوشت فقراء پر صدقہ کرنا ہوگا۔
(2)لیکن اگر مرحوم والدین نے وصیت نہ کی ہو، بلکہ اولاد اپنی طرف سے ان کے لئے قربانی کرنا چاہیں تو اس صورت میں قربانی تو اولاد کی طرف سے ہوگی، البتہ اس کا ثواب مرحوم والدین کو پہنچے گا اور اس صورت میں گوشت فقراء اور اغنیاء سب کھاسکتے ہیں۔
لہٰذا مذکور مفتی صاحب کا مقصود بھی اگر یہی ہو تو ان کی بات درست ہے۔
کما فی رد المحتار: قال في البدائع لأن الموت لا يمنع التقرب عن الميت بدليل أنه يجوز أن يتصدق عنه ويحج عنه، وقد صح «أن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - ضحى بكبشين أحدهما عن نفسه والآخر عمن لم يذبح من أمته» (الی قولہ) من ضحى عن الميت يصنع كما يصنع في أضحية نفسه من التصدق والأكل والأجر للميت والملك للذابح. قال الصدر: والمختار أنه إن بأمر الميت لا يأكل منها وإلا يأكل بزازية، الخ۔(ج۶، ص۳۲۶، کتاب الاضحیۃ ،ط۔سعید)۔
وفیہ ایضاً: (قوله وعن ميت) أي لو ضحى عن ميت وارثه بأمره ألزمه بالتصدق بها وعدم الأكل منها، وإن تبرع بها عنه له الأكل لأنه يقع على ملك الذابح والثواب للميت، الخ۔(ج۶، ص۳۳۵، کتاب الاضحیۃ ،ط۔سعید)۔