السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ علامہ صاحب کیا حال ہے خیریت سے ہیں! ایک مسئلے میں رہنمائی درکار ہے مسئلہ قربانی کے حوالے سے ہے مسئلہ یہ ہے جیسا کہ یہ رواج ہے کہ والدین اپنے بچوں اور بچیوں کے لیے جہیز کے لیے سونا اور کپڑے برتن وغیرہ پہلے تیار کر لیتے ہیں کیا آیا وہ قربانی کے نصاب میں شمار ہوگا اور قربانی کس پر لازم ہوگی والدین پر یا کہ بچوں پر مسئلے کو دلیل سے وضاحت فرمائیں جزاک اللہ والسلام
بچوں کے جہیز کے لئے رکھا گیا سونا اور ضرورت سے زائد اتنا سامان جس کی مجموعی مالیت (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت)کے برابر یا اس سے زائد ہو اور وہ باقاعدہ قبضہ کے ساتھ بچوں کے حوالے بھی نہ کیا گیا ہو تو اس صورت میں یہ والدین کی ملکیت کہلائے گا ، اور اس کی قربانی والدین پر لازم ہوگی،البتہ اگر وہ سونا ودیگر زائد مال قبضہ کے ساتھ بچوں کی ملکیت کردیا ہو اور وہ بچے عاقل بالغ ہوں تو اس کی وجہ سے بچے صاحب نصاب بن کر قربانی ان کے ذمہ ہی لازم ہوگی، اور ان کے نابالغ ہونے کی صورت میں اس مال پر قربانی کا حکم لاگو نہیں ہوگا۔
کما فی الدر المختار:وشرائطها: الإسلام والإقامة واليسار الذي يتعلق به)الخ
وفی رد المحتار تحت: (قوله واليسار إلخ) بأن ملك مائتي درهم أو عرضا يساويها غير مسكنه وثياب اللبس أو متاع يحتاجه إلى أن يذبح الأضحية ولو له عقار يستغله فقيل تلزم لو قيمته نصابا، وقيل لو يدخل منه قوت سنة تلزم، وقيل قوت شهر، فمتى فضل نصاب تلزمه. ولو العقار وقفا، فإن وجب له في أيامها نصاب تلزم الخ(کتاب الاضحیۃ،ج6،ص312،ط:سعید)۔
وفی الھندیۃ:وليس على الرجل أن يضحي عن أولاده الكبار وامرأته إلا بإذنه الخ(کتاب الاضحیۃ،ج5، ص293،ط:ماجدیہ)۔
وفی بدائع الصنائع: وأما البلوغ والعقل فليسا من شرائط الوجوب في قول أبي حنيفة وأبي يوسف، وعند محمد وزفر هما من شرائط الوجوب حتى تجب الأضحية في مال الصبي والمجنون إذا كانا موسرين عند أبي حنيفة وأبي يوسف رحمهما الله حتى لو ضحى الأب أو الصبي من مالهما لا يضمن عندهما وعند محمد وزفر رحمهما الله يضمن، وهو على الاختلاف الذي ذكرنا في صدقة الفطر والحج ذكرت هنالك، ومن المتأخرين من قال لا خلاف بينهم في الأضحية أنها لا تجب في مالهما؛ لأن القربة في الأضحية هي إراقة الدم وأنها إتلاف ولا سبيل إلى إتلاف مال الصغير، والتصدق باللحم تطوع ولا يجوز ذلك في مال الصغيرالخ(کتاب الاضحیۃ،ج5،ص64،ط:سعید)۔