السلام علیکم میری ماہانہ تنخواہ 130k ہے اور وہ سب میرے اخراجات پر خرچ ہوتا ہے بشمول میری پیشہ ورانہ ترقی کی فیس ،کام کا سفر وغیرہ ،میں نے قرض لیا ہے جو مجھے لگتا ہے کہ اگلے چھ ماہ میں ادا کردونگا ،ان شاء اللہ , کیا قربانی پھر بھی مجھ پر واجب ہے؟اور کیا میں قربانی کی وجہ سے قرض کی ادائیگی میں تاخیر کرسکتا ہوں؟
واضح ہوکہ قربانی ہر اس شخص پر لازم ہوتی ہے جو صاحبِ نصاب ہو،جس کی ملکیت میں ایامِ عید میں قرضہ منہا کرنے کے بعد ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر مالِ تجارت یا نقدی یا حاجتِ اصلیہ سے زائد سامان یا ان پانچ اموال کا مجموعہ ساڑھے باون تولہ چاندی کے برابر ہو،لہذا سائل کی ملکیت میں ایامِ عید میں قرضہ جات وغیرہ منہا کرنے کے بعد اگر بقدرِ نصاب (ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر) مذکورہ بالا اموال موجود ہوں تو سائل پر قربانی لازم ہے ورنہ نہیں۔
کمافی بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: ومنها الغنى لما روي عن رسول الله - صلى الله عليه وسلم - أنه قال: «من وجد سعة فليضح» شرط - عليه الصلاة والسلام - السعة وهي الغنى ولأنا أوجبناها بمطلق المال ومن الجائز أن يستغرق الواجب جميع ماله فيؤدي إلى الحرج فلا بد من اعتبار الغنى (الی قولہ)ولو كان عليه دين بحيث لو صرف إليه بعض نصابه لا ينقص نصابه لا تجب لأن الدين يمنع وجوب الزكاة فلأن يمنع وجوب الأضحية أولى؛ لأن الزكاة فرض والأضحية واجبة والفرض فوق الواجب الخ(ج5 ص64 کتاب التضحیۃ ط سعید)۔
وفی الفتاوى الهندية: ولو كان عليه دين بحيث لو صرف فيه نقص نصابه لا تجب الخ(ج5 ص292 کتاب الاضحیۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفی فتاوى يسألونك: وأجاز بعض العلماء أن يستدين الشخص ليضحي إحياء لهذه السنة العظيمة.اھ(ج2 ص371 الاضحیۃ،فی حق من تشرع الاضحیۃ ط: المکتبۃ العلمیۃ)۔