السلام علیکم ! آج کل انٹرنیٹ میں AI کا دور ہے، اکثر لوگ AI کا استعمال کرکے فوٹو اور ویڈیو بناتے ہیں، کیا اس طرح سے AI کے ذریعے کسی بھی زندہ چیز کی فوٹو یا ویڈیو بنانا حلال ہے یا نہیں اور اس سے پیسے کمانا کیسا ہے ؟
دوسرا سوال یہ ہے کہ Drop Shipping Business کے حوالے سے، آج کل بہت ساری ویب سائٹ اور ایپ اس طرح کی کاروباری سہولت فراہم کرتی ہیں، کیا ہم گھر بیٹھے آن لائن اس طرح سے کوئی بھی چیز فروخت کرکے پیسے کماسکتے ہیں یا نہیں؟
(1) A-I (آرٹیفیشل انٹیلیجنس) کے ذریعہ بنائی گئی تصویر ڈیجیٹل عکس بندی کے زمرے میں ہی آتی ہے، اس لئے جن ذی روح اشیاء کو خارج میں دیکھنے کی اجازت ہے، معاصر علماءِ کرام کے ایک معتد بہ طبقہ کے نزدیک ان اشیاء کی ڈیجیٹل تصویر و عکس بندی کی بھی شرعاً گنجائش ہے، لہٰذا اس طرح کی ویڈیوز / فوٹو یا عکس بندی کے کام کو بطورِ روزگار اختیار کرنا جائز اور اس سے حاصل شدہ آمدنی حلال ہوگی، البتہ جواز کی یہ صورت اسکرین کی حد تک محدود ہے، اگر کسی ذی روح کی ان تصاویر کو باقاعدہ کاغذ پر پرنٹ کرلیا جائے تو وہ تصویرِ محرم کے زمرے میں شمار ہوگی، جس سے بہر صورت احتراز لازم ہے۔
(2) فقہاءِ کرام نےکسی بھی چیز کی خرید و فروخت کے جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی لکھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے، وہ اس کی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضہ میں ہو اور اگر وہ ایسی چیز بیچتا ہے، جو اس کی ملکیت میں موجود نہیں ہے، تو بیع درست نہ ہوگی، بلکہ باطل اور کالعدم شمار ہوگی ، جبکہ ڈراپ شپنگ بزنس کرنے والے کا حسی یا معنوی طور پر کوئی ایسا اسٹور موجود نہیں ہوتا، جس میں وہ سامان کا اسٹاک رکھے،اس لئے جب وہ کوئی چیز اپنے گاہک کو بیچتا ہے، وہ عقد کے وقت اس کی ملکیت میں نہیں ہوتی،بلکہ خریداری کا معاہدہ ہوجانے کے بعد Purchase کر کے یعنی خرید کر گاہک کو دے دیتا ہے، لہٰذا غیر مملوک کی بیع ہونے کی بناء پر مذکور معاملہ شرعاً درست نہیں، جس سے اجتناب لازم ہے، البتہ اس کے جواز کی دو صورتیں ہوسکتی ہیں:
(الف) ایک صورت یہ ہوسکتی ہے کہ ڈراپ شپنگ کا کاروبار کرنے والا معاملہ کی ابتداء میں اپنے گاہک کو یہ نہ کہے کہ یہ چیز میں آپ کو بیچ رہا ہوں، بلکہ یہ کہے کہ یہ چیز بیچنے کا معاہدہ کرتا ہوں، اس طرح یہ بیع نہیں، بلکہ وعدۂ بیع ہوجاتا ہے، پھر وہ ہول سیلر/ دکاندار سے مطلوبہ آئٹم خرید کر خود یا وکیل کے ذریعہ حسی یا معنوی قبضہ میں اس طور پر لے کہ وہ خریدارکےرسک اور ضمان میں آجائے، تب وہ خریدار کو فروخت کر کے ڈیلیور کردے۔
(ب) دوسری جائز متبادل صورت وکالت/ کمیشن ایجنٹ کی ہے کہ ڈراپ شپنگ کا کاروبار کرنے والا گاہک سےآرڈر لے اور مطلوبہ چیزہول سیلر یا دکاندار سے لے کر گاہک کو پہنچائے یا وہ ہول سیلر/ دکاندار خود پہنچادے اور یہ شخص اپنی محنت کی طے شدہ اجرت لے ، تو اس صورت میں اصل بائع وہ ہول سیلر/ دکاندار ہوگا اور ڈراپ شپنگ کرنے والے کی حیثیت ایک وکیل کی ہوگی، جو شریعت میں ایک قابلِ عوض محنت ہے، جس پر مقررہ متعین اجرت لینا شرعاً جائز ہے۔
وفی الدر المختار: وأما الدلال فإن باع العين بنفسه بإذن ربها فأجرته على البائع وإن سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوهبانية. الخ
وفی رد المحتار تحت (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع أو المشتري أو عليهما بحسب العرف جامع الفصولين. الخ ( ج 4 ص 560 ط: سعید )۔
کما فی تکملۃ فتح الملھم: أما التلفزیون والفدیو فلا شک فی حرمۃ استعمالھا بالنظر الی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ ( الی قولہ ) أما الصورۃ التی لیس لھا ثبات واستقرار و لیست منقوشۃ علی شیء بضعۃ دائمۃ فإنھا بالظل أشبہ منھا بالصورۃ ویبدو أن صورۃ التلفزیون والفدیوا لا تستقر علی شیء فی مرحلۃ من المراحل الخ ( ج 4 ص 164 ط: دارالعلوم )۔