سلور شپنگ انٹرنیٹ پر ایک کام ہے ، کام یہ ہے کہ آپ کے لئے کمپنی کوئی چیز خریدے گی اور پھر اس کو آگے کرائے پر دیدے گی آپ کے قبضے کے بغیر اور پھر آپ کو روزمرہ کے اعتبار سے وہ کرایہ ملتا ہے اکاؤنٹ میں منتقل ہوتا ہے تو یہ کاروبار کرنا جائز ہے؟
سائل نے یہ نہیں لکھا کہ مذکور کمپنی کن چیزوں کی خریداری کرتی ہے اور اس کے کام کی مکمل نوعیت کیا ہے ، تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا ، تاہم اگر وہ کسٹمر کی طرف سے بطور وکیل کسی چیز کی خریداری کرتی ہو ، جو کہ شرعاً بھی حلال اور درست ہو اور اس پر قبضہ کرنے کے بعد معلوم اور متعین کرایہ کے عوض کسی کو کرایہ پر دے اور اس کام پر اصل مالکان سے طے شدہ معاوضہ بطورِ اجرت لے تو اس میں شرعاً کوئی حرج نہیں ، لیکن اگر اس معاملہ کی کوئی اور نوعیت ہو تو اس کی وضاحت کرکے حکمِ شرعی دوبارہ معلوم کیا جا سکتا ہے۔
كما في الفتاوى البزازية: لا يجوز عقدها ( الاجارة ) حتى يعلم البدل و المنفعة و بيان المنفعة بأحد ثلاث بيان الوقت وهو الأجل أو بيان العمل و المكان الخ ( كتاب الإجارات، 7، ص 392، ط : رشيدية)-
و في المحيط البرهاني: والأصل فيه : أن القبضين إذا تجانسا ينوب أحدهما عن الآخر، وإذا اختلفا ناب الأعلى عن الأدنى ولا ينوب الأدنى عن الأعلى، قلنا : وقبض الوديعة مع قبض الهبة تجانسا؛ لأن كل واحد منهما قبض أمانة، أما قبض الوديعة مع قبض الشراء تغايرا؛ لأن أحدهما قبض أمانة والآخر قبض ضمان، وقبض العارية والإجارة كل واحد منهما قبض أمانة ( الفصل الحادي عشر: في المتفرقات، ج 6، ص 263، ط : دار الكتب العلمية)-
و في البحر الرائق: ولا يشترط القبض بالبراجم؛ لأن معنى القبض هو التمكين، والتخلي، وارتفاع الموانع عرفا وعادة حقيقة ( فصل في الشرط الذي يرجع إلى المعقود عليه، ج 5، ص 148، ط : دار الكتب العلمية)-
و في رد المحتار: تحت ( قوله مع الماء ) وفي الحاوي : سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار ، فقال أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز ، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام الخ ( مطلب في أجرة الدلال ، ج 6 ، ص 63 ، ط : سعيد)-
و في خلاصة الفتاوى: و في الأصل أجرة السمسار و المغادي و الحمامي و الصكاك و ما لا تقدير فيه للوقت ولا مقدار لما يستحق بالعقد، لكن للناس فيه حاجة جاز و إن كان في الأصل فاسدا الخ ( كتاب الإجارات ، الفصل الثاني في صحة الإجارة و فسادها ، ج 3 ، ص 116 ، ط : رشيدية)-