ایک عورت کے پاس دو تولہ سونا ہے، اور کمرے میں سامان ہے جو سال بھر استعمال نہیں ہوتا، تو اس پر زکوۃ اور قربانی واجب ہے یا نہیں؟
مذکور عورت کی ملکیت میں اگر فقط دو(2) تولہ سونا ہو اس کے علاوہ چاندی، مال تجارت، نقدی میں سے کچھ موجود نہ ہو، تو ایسی صورت میں اگر اس کی ملکیت میں سال بھر استعمال میں نہ آنے والا سامان موجود ہو، تب بھی اس کے ذمہ فقط دو تولہ سونے کی زکوٰۃ لازم تو نہ ہوگی، البتہ اگر یہ سامان ضرورت سے زائد ہو اور سال بھر میں ایک دفعہ بھی استعمال میں نہ آتا ہو تو ایسی صورت میں اس سامان کی مالیت کو دو (2) تولہ سونے کے ساتھ ملایا جائے اور دونوں کی مجموعی مقدار چونکہ موجودہ حسا ب سے ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتی ہے، اس لئے ایسی صورت میں مذکور عورت کے ذمہ قربانی لازم ہوگی، لیکن اگر مذکور سونے کے ساتھ چاندی، نقدی اور مالِ تجارت میں سے کچھ موجود ہو، تو چونکہ موجودہ حساب سے ان کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتی ہے، اس لئے ایسی صورت میں سال پورا ہونے پر سونے کا موجودہ مارکیٹ ریٹ ہوگا، اس کے مطابق مذکور عورت کے ذمہ ڈھائی فیصد زکوٰۃ کی ادائیگی بھی لازم ہوگی۔
کما فی فتاوی الھندیۃ: . وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز. حتى لو ملك مائة درهم خمسة دنانير قيمتها مائة درهم تجب الزكاة عنده خلافا لهماالخ (باب فی زکاۃ الذھب والفضۃ والعروض، ج1،ص 179، ط: ماجدیہ)۔
وفی الدرالمختار: (نصاب الذهب عشرون مثقالا والفضة مائتا درهم كل عشرة) دراهم (وزن سبعة مثاقيل) الخ (باب زکاۃ المال،ج 2، 295، ط: سعید)۔
وفی ردالمحتارتحت: (قوله: عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه الخ (باب زکاۃ المال، ج 2، ص 395، ط: سعید)۔
وفی التاتارخانیۃ: الحجۃ: من لہ متاع فاصل عن حاجتہ الاصلیۃ مقدار ما یساوی مائتی درھم الا انہ لیس للتجارۃ فانہ لا یحل لہ أخذ الزکوٰۃ و لا تجب علیہ الزکوٰۃ، و تجب علیہ الاضحیۃ و صدقہ الفطر احتیاطاً الخ(ج 3، ص 215، ط: رشیدیہ)۔