السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ"کرپٹو ٹریڈنگ میں اسپاٹ اور فیوچر ٹریڈنگ کیا حلال ہے یا حرام؟ اور فاریکس ٹریڈنگ کی کیا حیثیت ہے؟ براہ کرم رہنمائی کریں۔"
واضح ہو کہ (کرپٹو) کرنسی کا کوئی حسی وجود نہیں، بلکہ محض ڈیوائس میں موجودگی اور ضمان کی حد تک اس کو کرنسی خیال کیا جاتا ہے، جبکہ ملکی قانون میں اس کو مبادلہ اور خرید و فروخت کیلئے استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی ہےگئی ، لہذا کرپٹو ٹریڈنگ کرنا ،چاہے اسپاٹ یا فیوچر ٹریڈنگ ہو، شرعاً جائز نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے۔
جبکہ فاریکس ٹریڈنگ میں عام طور پر خرید وفروخت مقصود نہیں ہوتی، بلکہ فرق برابر کر کے نفع کمانا مقصود ہوتا ہے ، اسی وجہ سے اس کا روبار میں عموماً قبضہ کے بغیر ہی وہ چیز آگے بیچ دی جاتی ہے،جوکہ شرعاً جائز نہیں ، اس لئے عام حالات میں تو یہ کاروباردرست نہیں ، جس سے احتراز لازم ہے ، تا ہم اگر کوئی شخص اپنے کسی وکیل کے ذریعے حلال اشیاء خریدنے کے بعد ان پر قبضہ کر کے پھرآگے بیچے تو بلا شبہ اس کا نفع بھی حلال ہوگا ، مگر چونکہ اس کاروبارمیں عموماً ایسا نہیں ہوتا ، اس لئے اس سے احتراز لازم ہے ۔
قال الله تعالى : يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ ( سورة المائدة، الأية : 90)-
و في صحيح مسلم : عن عمرو بن دينار عن طاوس عن ابن عباس أن رسول الله -صلى الله عليه وسلم- قال « من ابتاع طعاما فلا يبعه حتى يستوفيه ». قال ابن عباس وأحسب كل شىء مثله. ( كتاب البيوع، باب بطلان بيع المبيع قبل القبض، ص 538، ط : مؤسسة الرسالة)-
و في الدر المختار : ( إن شرط المال ) في المسابقة (من جانب واحد وحرم لو شرط ) فيها ( من الجانبين ) لأنه يصير قمارا ( إلا إذا أدخلا ثالثا ) محللا ( بينهما ) ( كتاب الحظر و الإباحة، فصل في البيع، ج 6، ص 403، ط : سعيد)-
و في فتاوى الهندية : السباق يجوز (إلى قولى) وإنما يجوز ذلك إن كان البدل معلوما في جانب واحد بأن قال: إن سبقتني فلك كذا، وإن سبقتك لا شيء لي عليك أو على القلب، أما إذا كان البدل من الجانبين فهو قمار حرام إلا إذا أدخلا محللا بينهماالخ (الباب السادس في المسابقة، ج 5، ص 324، ط : ماجدية)-
و في رد المحتار : تحت ( قوله : و شرطه أهلية المتعاقدين ) و شرط المعقود عليه ستة : كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه ، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه ، وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وما له خطر العدم كالحمل واللبن في الضرع و الثمر قبل ظهوره ( مطلب شرائط البيع أنواع أربعة، ج 4، ص 505، ط : سعيد)-