السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ اسلام میں بیع سلم جائزہے ؟یعنی اس چیز کو بیچناجو آپ کے پاس اس وقت موجود نہ ہو اور آپ اس کی پوری قیمت لےکر آئندہ وقت میں وہ چیز مقررہ صفات اور وقت پر کسی کے حوالہ کر دیں، اب میرے پاس کوئی پراڈکٹ موجود نہیں، لیکن میں نے جس غیر ملکی کمپنی کے ساتھ اکاؤنٹ کھولا ہے ان کے پراڈکٹس میں نے اپنی آن لائن سٹور پر قیمت، تاریخ ، ڈیلیوری اور سب تفصیل کے ساتھ لگائے ہیں ، اب خریدار اس کو دیکھ کر وہی چیز میرے آن لائن سٹور سے ایڈوانس قیمت دے کر خریدتا ہے،پھر میں کمپنی کے ویبسائٹ پر اس آرڈر کی تفصیلات مہیاکرکےاپنے لیے نہیں بلکہ اس گاہگ کے لیے اپنے پیسوں سے یا گاہگ کے پیسوں سے خریدتا ہوں کمپنی جو کہ ایک قسم کی ہماری نمائندہ ہوتی ہے وہ چیز سیدھا خریدار کے گھر پہنچاتی ہے تو کیا یہ جائز ہے ؟
سائل نے سوال میں اپنےآن لائن کاروبار کا جو طریقہ بیان کیا ہے ،اور اس کو بیع سلم کا نام دیا ہے ،وہ( سلم کی شرائط نہ پائے جانے کی وجہ سے ) بیع سلم نہیں ، بلکہ مروجہ ”ڈراپ شپنگ“آن لائن کاروبار ہے ،جس میں عموماً مبیع کا مالک بننے اور قبضہ کرنے سے قبل آگے فروخت کیا جاتا ہے ، جو کہ شرعاً ناجائز ہے ، اس لیے کہ خرید و فروخت کے شرعاً جائز ہونے کی شرائط میں سے ایک بنیادی شرط یہ بھی ہے کہ بیچنے والا جس چیز کو بیچ رہا ہے ،وہ اسکی ملکیت اور حسی یا معنوی قبضے میں ہو ، اور اگر وہ کسی ایسی چیز کو بیچتا ہے جو اس کی ملکیت میں نہیں ہے ،تو بیع درست نہیں ہوتی، بلکہ باطل اور کالعدم شمار ہوتی ہے،لہذا صورتِ مسئولہ میں سائل جب کوئی چیز اپنے گاہک کو بیچتا ہے تو وہ چیز عقد کے وقت اسکی ملکیت میں نہیں ہوتی، بلکہ خریداری کا معاہدہ ہو جانے کے بعد وہpurchase کر کے یعنی خرید کر گاہک کو دیدیتا ہے ، لہذا غیر مملوک کی بیع ہونے کی بناء پر مذکورمعاملہ شرعاً درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
البتہ اس کے جواز کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں:(الف) ایک صورت یہ ہو سکتی ہے کہ ڈراپ شپنگ کا کاروبار کرنے والا (سائل) معاملہ کی ابتداء میں اپنے گاہک کو یہ نہ کہے کہ یہ چیز میں آپ کو بیچ رہا ہوں بلکہ یہ کہے کہ یہ چیز بیچنے کا معاہدہ کرتا ہوں، اس طرح یہ بیع نہیں بلکہ وعدۂ بیع ہو جاتا ہے، اور اسوقت رقم لینا ہامش جدیہ (پیشگی ادائیگی کے طور پر درست ہوگا، پھر وہ ہول سیلر / دکاندار سے مطلوب آئٹم خرید کر خود یا وکیل کے ذریعہ حسی یا معنوی قبضہ میں اس طور پر لے کہ وہ سائل کے ضمان (risk) میں آجائے ، تب وہ خریدار کو فروخت کر کے ڈلیور کر دے۔
(ب) دوسری جائز متبادل صورت وکالت / دلال (brokerage) کی ہے کہ سائل گاہک سے آرڈر لے اور مطلوبہ چیز ہول سیلر یاد کاندار سے لیکر کر گاہک تک پہنچائے یا وہ ہول سیلر / دکاندار خود پہنچادے اور سائل اپنی محنت کی طے شدہ اجرت لے.تو اس صورت میں اصل بائع وہ ہول سیلر / دکاندار ہوگا اور سائل کی حیثیت ایک وکیل یا (middle man) کی ہوگی، جو شریعت میں ایک قابل عوض محنت ہے جس پر مقررہ متعین اجرت لینا شرعاً جائز ہے۔
کما فی سنن ابن ماجۃ: عن ابن عباس رضی اللہ عنہ قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم من ابتاع طعاما فلا یبعہ حتی یستوفیہ قال أبو عوانہ فی حدیثہ قال ابن عباس و أحسب کل شیئ مثل الطعام ( باب النھی عن بیع الطعام قبل ما لم یقبض ص:455 ، ط: بشری )۔
و في الدر المختار: واما الدلال فان باع العين بنفسه باذن ربها فاجرته على البائع وان سعى بينهما وباع المالك بنفسه يعتبر العرف وتمامه في شرح الوھبانية الخ۔
وفي الشامية تحت: (قوله: يعتبر العرف) فتجب الدلالة على البائع او المشترى أو علیھما بحسب العرف جامع الفصولین الخ (کتاب البیوع فصل فیما یدخل فیہ فی البیع تبعا و ما لا یدخل ج:4،ص:560،ط:سعید)۔
و في الهداية: (قال ولا يجوز بيع السمك قبل ان يصطاد) لانه باع ما لا يملكه . (ولا في حظيرة اذا كان لا يوخذ الا بصيد لانه غير مقدور التسليم، ومعناه اذا اخذه ثم القاه فيهاو لو كان يوخذ من غير حيلة جاز الا اذا اجتمعت فيها بانفسها ولم يسد عليها المدخل لعدم الملك قال: ( ولا بيع الطير فى الهواء) لانه غير مملوك قبل الاخذ وكذا لو ارسله من يده لانه غير مقدور التسليم الخ( کتاب البیوع باب بیع الفاسد ج:3،ص:52،ط:مکتبۃ رحمانیۃ)۔
و فیھا ایضا: و من إشتری شیئا مما ینقل و یحول لم یجز بیعہ حتی یقبضہ لأنہ نھی عن بیع ما لم یقبض و لأن فیہ غرر انفساخ العقد علی إعتبار الھلاک الخ ( کتاب البیوع ج: 3 ، ص: 77، ط: امدادیۃ )۔
و فی تبیین الحقائق: لا یجوز بیع المنقول قبل القبض لما روینا و لقولہ علیہ السلام إذا إبتعت طعاما فلا یبعہ حتی یستوفیہ الخ ( کتاب البیوع ج: 4، ص: 437، ط: دار الکتب العلمیۃ )۔