فارسیج آئی او بلوک چین(io.block chain) کے حوالے سے رہنمائی فرمائیں، جزاک اللہ خیراً!
فار سیج نامی کاروبار سے متعلق اب تک جو معلومات موصول ہوئی ہیں، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ ایک ” ملٹی لیول مارکیٹنگ کے تحت چلنے والا ایک نظام ہے، جس کا بنیادی مقصد کسی پروڈکٹ (کرنسی وغیرہ) کی خرید فروخت اور کاروبار کرنا نہیں ہوتا، بلکہ محض ممبر شپ کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کو اس چین میں شامل کر کے ان سے سرمایہ اکٹھا کرنا ہے، جس کے لئے ممبران کو" نیٹ ورک مارکیٹنگ" کے طریقہ کار پر ڈاؤن چین میں شامل ہونے والوں کی رقم سے کمیشن کا لالچ دیکر کمپنی کی زیادہ سے زیادہ تشہیر کی جاتی ہے۔
چنانچہ فور سیج نامی کاروبار کے طریقہ کا پر غور و فکر کے بعد معلوم ہوتا ہے کہ اس میں درجِ ذیل مفاسد پائے جاتے ہیں۔
• فارسیج نامی کاروبار میں در حقیقت مصنوعات کی خرید فروخت نہیں ہوتی اور نہ ہی اس کے ممبر بننے والوں کا یہ مقصد ہوتا ہے، بلکہ کمپنی کو اپنی تشہیر کے لیے زیادہ سے زیادہ ممبر ز اور سرمایہ کی ضرورت ہوتی ہے، جس کے لئے کمپنی لوگوں سےمخصوص رقم لیکر اس چین کا حصہ بنالیتی ہے اور مزید لوگوں کو شامل کرنے کے لئے انہیں ایک لنک دیا جاتا ہے ، پھر اگر کوئی شخص اس پرانے ممبر کے توسط سے اس چین کا حصہ بنتا ہے، تو اس کی رقم سے پرانے ممبر کو کمیشن دیا جاتا ہے، اور یہ سلسلہ کمیشن در کمیشن چلتارہتا ہے، لیکن اگر کوئی ممبر مزید لوگوں کو شامل کرنے میں ناکام رہے، تو اس کو کمیشن کی صورت میں منافع بھی نہیں ملتا، جو کہ غرر اورقمار کی ایک صورت ہے۔
• اس بلاک چین میں کمپنی اور ممبر کے درمیان ہونے والے معاملے کی حیثیت اور نوعیت واضح نہیں ہوتی،بلکہ ایک مجہول عقد کے نتیجے میں اسے نفع مل رہا ہوتا ہے۔
• اس کمپنی میں بالواسطہ ممبر زبننے والوں کے عمل سے ماقبل کے ممبر کو بغیر کسی محنت و عمل کے منافع مل رہا ہے ، جو شرعاً جائز نہیں۔
لہذا فار سیج کمپنی میں محض ممبر سازی کے تحت لوگوں کو کمیشن کا لالچ دیکر ان سے سرمایہ اکھٹا کر نا ہی اصل مقصد ہے، کسی چیز کی خرید فروخت اور کاروبار مقصود نہیں، اس لئے اس کمپنی کا ممبر بننے یادوسرے لوگوں کو اس میں شمولیت کی دعوت دینے سے اجتناب لازم ہے۔
کما قال اللہ تعالی: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدہ/90)۔
وفی الاحکام القرآن للجصاص: ولا خلاف بين أهل العلم في تحريم القمار، وأن المخاطرة من القمار، قال ابن عباس:إن المخاطرة قمار، وإن أھل الجاھلية كانوا يخاطرون على المال والزوجة، وقد كان ذلك مباحاً إلى أن ورد تحريمه(1/398)۔
وفی الصحیح لمسلم: نهی رسول الله صلى الله عليه وسلم عن بيع الغرر(6/733)۔
وفی بدائع الصنائع: ولو كان الخطر من الجانبين جميعاً ولم يدخلا فيه محللاً لا يجوز، لأنه في معنى القمار. نحو أن يقول أحدھما لصاحبه: إن سبقتني فلك علي كذا، وإن سبقتك فلي عليك كذا ، فقبل الآخر " (فصل في شروط جواز السابق، ج 8، ص350،ط: دار الکتب العلمیۃ بیروت)۔
وفی رد المحتار: لأن القمار من القمر الذي يزداد تارة وينقص أخرى، وسمي القمار قماراً،لأن كل واحد من المقامرين ممن يجوز أن يذهب ماله إلى صاحبه، ويجوز أن يستفيد مال صاحبه وهو حرام بالنص(ج6،ص403)۔