1- کیا Ai کے ذریعے تصویر بنوانا اور اسے سوشل میڈیا پلیٹ فارمس پر بطور dp وغیرہ کسی فرضی نام یا اپنے نام کے ذریعے استعمال کرنا کیسا ہے ؟
2-فیسبک پیچ یا انسٹاگرام اکاؤنٹ وغیرہ جو کہ popular ہوچکا ہو(یا اسکے ایڈمن نے اپنی محنت سے اسے popular کیا ہو)تو اسکے ایڈمن کے لئےاس(پیچ یا اکاؤنٹ )میں کسی شخص یا کمپنی کے product کو post کرنے کے بدلے پیسے وغیرہ لینا کیسا ہے ؟ یا اس اکاؤنٹ یا پیچ وغیرہ کو sale کرنے کا کیا حکم ہے ؟
3- اگر جائز ہے تو یعنی Ai Generated تصویر اور کسی فرضی نام یا اپنے نام سے اس تصویر کو I.D کے لئےاستعمال کرنا جائز ہے تو اسی i.d کو popular کر کے اس میں کسی شخص یا کمپنی کے پروڈکٹ کو post کرنے کے عوض اجرت لینا کیسا ہے ؟
4- لڑکی کی تصویر Ai کے ذریعے generate کرنے کا حکم کیا ہے اور اسے اکاؤنٹ وغیرہ کے لئےبطور d.p وغیرہ استعمال کرنا اور اسی اکاؤنٹ کے ذریعے پروڈکٹ وغیرہ پوسٹ کر کے پیسے وغیرہ لینا کیسا ہے؟
واضح ہو کہ جاندار کی جن تصاویر کو خارج میں دیکھنے کی اجازت ہے، اگر ان کی تصاویر صرف اسکرین کی حد تک محدود ہوں، ان کا باقاعدہ پرنٹ آؤٹ نہ لیا جائے تو ایسی تصاویر کو AI ( آرٹیفیشل انٹیلیجنس ) کے ذریعہ بنانا اور اسے سوشل میڈیا پر بطورِ ڈی پی اپلوڈ کرنا جائز ہوگا، البتہ لڑکی کی تصویر کو AI کے ذریعہ بنانا اور اس کو اکاؤنٹ پر اپلوڈ کرنا جائز نہیں ہے، جس سے اجتناب لازم ہے، جبکہ سوشل میڈیا اکاؤنٹ کوئی عین نہیں کہ جسے قیمتاً کسی اور پر فروخت کر کے اس کی قیمت وصول کرلی جائے، بلکہ اس طرح کے اکاؤنٹ کے استعمال کرنے کے حقوق دوسروں کی طرف منتقل کر کے اپنے حق سے دستبرداری کے عوض رقم لی جاسکتی ہے،چنانچہ اگر کوئی شخص اپنے اکاؤنٹ میں پروڈکٹ وغیرہ پوسٹ کرنے پر فیس وصول کرے یا اپنا اکاؤنٹ پیسوں کے عوض دوسروں کے حوالہ کردے تو اس کی گنجائش معلوم ہوتی ہے۔
کما فی تکملۃ فتح الملھم: أما التلفزیون والفدیو فلا شک فی حرمۃ استعمالھا بالنظر الی ما یشتملان علیہ من المنکرات الکثیرۃ ( الی قولہ ) أما الصورۃ التی لیس لھا ثبات واستقرار و لیست منقوشۃ علی شیء بضعۃ دائمۃ فإنھا بالظل أشبہ منھا بالصورۃ ویبدو أن صورۃ التلفزیون والفدیوا لا تستقر علی شیء فی مرحلۃ من المراحل الخ ( ج 4 ص 164 ط: دارالعلوم )۔
وفی فقہ البیوع: ویبدو لھذا العبد الضعیف عفا اللہ عنہ أن حق الاسم التجاری والعلامات التجاریۃ، وان کان فی الاصل حقاً مجرداً غیر ثابت فی عین قائمۃ، ولکنہ بعد التسجیل الحکومی الذی یتطلب جھداً کبیراً وبذل اموال جمۃ، والذی تحصل لہ بعد ذلک صفۃ قانونیۃ تمثلھا شھادات مکتوبۃ بید الحامل وفی دفاتر الحکومۃ، اشبہ الحق المستقر فی العین، والتحق فی عرف التجار بالاعیان ، فینبغی ان یجوز الاعتیاض عنہ علی وجہ البیع ایضاً الخ ( بیع اسم التجاری ج 1 ص 277 ط: معارف القرآن)۔