میں ایک کمپنی میں آن لائن بزنس کرتی ہوں ، جس کا نام (forever living)ہے ،میں نے جب سے اس کمپنی کو جوائن کیا ہے ،میں نے اس میں کوئی حرام والی چیز نہیں پائی ہے ، کیوں کہ نہ ہی اس میں کوئی payramid scheme ہے ، اور نہ ہی mlm scheme ہے ، لیکن میری کچھ دوست ہیں جنہوں نے مجھے شک میں مبتلا کردیا ہے کہ یہ حرام ہے ، میں اس کا جواب چاہتی ہوں، کیوں کہ میں ایک حرام کام نہیں کر سکتی، اس میں کام یہ ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی کمپنی کا بزنس آنر بننا ہوتا ہے، اور اس کے لئے آپ کو ان کی پروڈکٹس بیچنی ہوتی ہیں ، اور پروڈکٹس بہت اچھی اور ہائی کوالٹی کی ہیں، پروڈکٹس بیچنے کے بعد آپ کمپنی میں بزنس آنر بن جاتے ہیں، اس طرح سے وہ اپنی پروڈکٹس کی پروموشن کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آپ اپنے ساتھ اور لوگوں کو جوائن کریں، تاکہ وہ بھی ہماری پروڈکٹس خریدیں اور اس کا آپ کو نفع ملے گا ، اسی طرح یہ کام چلتا ہے، باقی میں نے اوپر ایک ویڈیو کا لنک بھی بھیجا ہے، اسے آپ بغور دیکھ لیں گے، کیوں کہ اس میں کمپنی کا کمپلیٹ مارکیٹنگ پلین ہے کہ کمپنی میں کس طرح کام ہوتا ہے، براہ مہربانی مجھے جلدی جواب دیجئے گا، کیوں کہ میں بچوں کی ماں ہوں اور میں اپنے بچوں کو حرام نہیں کھلا سکتی اور نہ ہی خود کھا سکتی ہوں، جزاک اللہ ! آپ کے جواب کا انتظار ہے۔
ہماری معلومات کے مطابق نیٹ ورک مارکیٹنگ (Netwok Marketing) یا ملٹی لیول مارکیٹنگ کے طریقہ کارپر بہت ساری کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جبکہ اس میں عموماً مصنوعات کی خرید و فروخت اصل مقصد نہیں ہوتا، بلکہ ممبر سازی کے ذریعے کمیشن در کمیشن کا روبار چلانا اصل مقصد ہوتاہے، جو کہ جوئے کی ایک نئی شکل ہے، نیز مذکور طرز کےکاروبار میں دیگر بہت سارے مفاسد موجود ہیں ، لہذا مذکور کمپنی (forever living) کا کاروبار بھی اس طریقہ کار کے مطابق ہو تو سائلہ پر اس کے ساتھ کام کرنے سےاجتناب لازم ہے(ماخوذ از تبویب)۔
كما في التنزيل العزيز: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدہ:90)۔
وفى أحكام القرآن للجصاص: وحقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل فيبطل عقود التمليكات الواقعة على الأخطار اھ(4/127،ط: دار احیاء التراث)۔
و فی مسند أحمد: عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود عن أبيه، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صفقتين في صفقة واحدة "(6/324،ط: مؤسسۃ الرسالہ)۔
وفي المبسوط للسرخسي: ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزاميروالطبل وشيء من اللهو لأنه معصية والاستئجار على المعاصي باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعا ولا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصیا شرعا، وكذلك الاستئجار على الحداء، وكذلك الاستئجار لقراءة الشعر؛ لأن هذا ليس من إجارة الناس والمعتبر في الإجارة عرف الناس(16/ 38، ط: دار المعرفۃ)۔
وفي البحر الرائق: ولا يجوز الإجارة على شيء من الغناء واللهو والنوح والمزامير والطبل ولا على الحداء وقراءة الشعر ولا غيره ولا أجر في ذلك اھ (8/ 23،ط: دار الکتب الاسلامی)۔
وفي تبيين الحقائق: ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو ولا على الحداء وقراءة الشعر ولا غيره ولا أجر في ذلك، وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد لأنه معصية ولهو ولعب والاستئجار على المعاصي واللعب لا يجوز لأنه منهي عنه اھ(5/ 125، ط: الکبری الامیریہ)۔
و فى البنایۃ: ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل أو شيء من اللهو ولا على الحداء وقراءة الشعر ولا غيره ولا أجر في ذلك. وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد لأنه معصبة وليو ولعب اهـ (10/ 283، ط: دار الکتب العلمیہ)۔
وفي مجمع الأنهر :(أو المعاصي) أي لا يجوز أخذ الأجرة على المعاصي (كالغناء والنوح والملاهي : لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجر، وإن أعطاء الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه - ام (2/ 384، ط: دار الاحیاء التراث)۔
وفى الشاميۃ: قال في التتارخانية وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعواعليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوروه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة اھ(6/63، ط: سعید)۔