معاشی اسکیمز

فار ایور لیونگ کمپنی کی ملازمت کا حکم

فتوی نمبر :
70977
| تاریخ :
2024-02-16
جدید فقہی مسائل / جدید معاشیات / معاشی اسکیمز

فار ایور لیونگ کمپنی کی ملازمت کا حکم

میں ایک کمپنی میں آن لائن بزنس کرتی ہوں ، جس کا نام (forever living)ہے ،میں نے جب سے اس کمپنی کو جوائن کیا ہے ،میں نے اس میں کوئی حرام والی چیز نہیں پائی ہے ، کیوں کہ نہ ہی اس میں کوئی payramid scheme ہے ، اور نہ ہی mlm scheme ہے ، لیکن میری کچھ دوست ہیں جنہوں نے مجھے شک میں مبتلا کردیا ہے کہ یہ حرام ہے ، میں اس کا جواب چاہتی ہوں، کیوں کہ میں ایک حرام کام نہیں کر سکتی، اس میں کام یہ ہوتا ہے کہ آپ نے اپنی کمپنی کا بزنس آنر بننا ہوتا ہے، اور اس کے لئے آپ کو ان کی پروڈکٹس بیچنی ہوتی ہیں ، اور پروڈکٹس بہت اچھی اور ہائی کوالٹی کی ہیں، پروڈکٹس بیچنے کے بعد آپ کمپنی میں بزنس آنر بن جاتے ہیں، اس طرح سے وہ اپنی پروڈکٹس کی پروموشن کرتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ آپ اپنے ساتھ اور لوگوں کو جوائن کریں، تاکہ وہ بھی ہماری پروڈکٹس خریدیں اور اس کا آپ کو نفع ملے گا ، اسی طرح یہ کام چلتا ہے، باقی میں نے اوپر ایک ویڈیو کا لنک بھی بھیجا ہے، اسے آپ بغور دیکھ لیں گے، کیوں کہ اس میں کمپنی کا کمپلیٹ مارکیٹنگ پلین ہے کہ کمپنی میں کس طرح کام ہوتا ہے، براہ مہربانی مجھے جلدی جواب دیجئے گا، کیوں کہ میں بچوں کی ماں ہوں اور میں اپنے بچوں کو حرام نہیں کھلا سکتی اور نہ ہی خود کھا سکتی ہوں، جزاک اللہ ! آپ کے جواب کا انتظار ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

ہماری معلومات کے مطابق نیٹ ورک مارکیٹنگ (Netwok Marketing) یا ملٹی لیول مارکیٹنگ کے طریقہ کارپر بہت ساری کمپنیاں کام کر رہی ہیں، جبکہ اس میں عموماً مصنوعات کی خرید و فروخت اصل مقصد نہیں ہوتا، بلکہ ممبر سازی کے ذریعے کمیشن در کمیشن کا روبار چلانا اصل مقصد ہوتاہے، جو کہ جوئے کی ایک نئی شکل ہے، نیز مذکور طرز کےکاروبار میں دیگر بہت سارے مفاسد موجود ہیں ، لہذا مذکور کمپنی (forever living) کا کاروبار بھی اس طریقہ کار کے مطابق ہو تو سائلہ پر اس کے ساتھ کام کرنے سےاجتناب لازم ہے(ماخوذ از تبویب)۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في التنزيل العزيز: يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ فَاجْتَنِبُوهُ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (المائدہ:90)۔
وفى أحكام القرآن للجصاص: وحقيقته تمليك المال على المخاطرة وهو أصل فيبطل عقود التمليكات الواقعة على الأخطار اھ(4/127،ط: دار احیاء التراث)۔
و فی مسند أحمد: عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود عن أبيه، قال: " نهى رسول الله صلى الله عليه وسلم عن صفقتين في صفقة واحدة "(6/324،ط: مؤسسۃ الرسالہ)۔
وفي المبسوط للسرخسي: ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزاميروالطبل وشيء من اللهو لأنه معصية والاستئجار على المعاصي باطل فإن بعقد الإجارة يستحق تسليم المعقود عليه شرعا ولا يجوز أن يستحق على المرء فعل به يكون عاصیا شرعا، وكذلك الاستئجار على الحداء، وكذلك الاستئجار لقراءة الشعر؛ لأن هذا ليس من إجارة الناس والمعتبر في الإجارة عرف الناس(16/ 38، ط: دار المعرفۃ)۔
وفي البحر الرائق: ولا يجوز الإجارة على شيء من الغناء واللهو والنوح والمزامير والطبل ولا على الحداء وقراءة الشعر ولا غيره ولا أجر في ذلك اھ (8/ 23،ط: دار الکتب الاسلامی)۔
وفي تبيين الحقائق: ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل وشيء من اللهو ولا على الحداء وقراءة الشعر ولا غيره ولا أجر في ذلك، وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد لأنه معصية ولهو ولعب والاستئجار على المعاصي واللعب لا يجوز لأنه منهي عنه اھ(5/ 125، ط: الکبری الامیریہ)۔
و فى البنایۃ: ولا تجوز الإجارة على شيء من الغناء والنوح والمزامير والطبل أو شيء من اللهو ولا على الحداء وقراءة الشعر ولا غيره ولا أجر في ذلك. وهذا كله قول أبي حنيفة وأبي يوسف ومحمد لأنه معصبة وليو ولعب اهـ (10/ 283، ط: دار الکتب العلمیہ)۔
وفي مجمع الأنهر :(أو المعاصي) أي لا يجوز أخذ الأجرة على المعاصي (كالغناء والنوح والملاهي : لأن المعصية لا يتصور استحقاقها بالعقد فلا يجب عليه الأجر، وإن أعطاء الأجر وقبضه لا يحل له ويجب عليه رده على صاحبه - ام (2/ 384، ط: دار الاحیاء التراث)۔
وفى الشاميۃ: قال في التتارخانية وفي الدلال والسمسار يجب أجر المثل، وما تواضعواعليه أن في كل عشرة دنانير كذا فذاك حرام عليهم وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز فجوروه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجا ينسج له ثيابا في كل سنة اھ(6/63، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70977کی تصدیق کریں
1     1813
Related Fatawa متعلقه فتاوی
  • کرپٹو کرنسی میں سپاٹ ٹریڈنگ کا حکم - future or spot trading

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   معاشی اسکیمز 14
  • ٹیلی نار کی سم لگاؤ آفر کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   معاشی اسکیمز 0
  • ایزی پیسہ اکاؤنٹ پر چارجز وصول کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   اسکین   انگلش   معاشی اسکیمز 4
  • کیش بیک کی رقم کس کی ملکیت شمار ہوگی؟

    یونیکوڈ   اسکین   معاشی اسکیمز 0
  • "ٹورن کرپٹو کرنسی" کا شرعی حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • این آر جی کمپنی میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • اپنی سیونگ کو کس طرح محفوظ کیاجاسکتاہے؟

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • اسٹاک مارکیٹ اور فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • نیٹ ورک مارکیٹنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 2
  • نیشنل بینک کے" اعتماد ماہانہ بچت اکاؤنٹ" کے منافع کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • آنلائن ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 2
  • سافٹ ویئر انجینئیر کا بینک کیلئے ویب سائٹ بنانا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • ڈراپ شپنگ - بغیر قبضہ کئے چیز کو فروخت کرنا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • فاریکس ٹریڈنگ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 3
  • تکافل پروگرامز میں انویسٹمنٹ کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • "بائے ون گیٹ ون فری " (ایک چیز کی خریداری پر دوسری مفت) اسکیم کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • "گوگل ایڈورڈ" کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • "فارسیج " نام کے کاروبار کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • انشورنس والوں کو ویب سائٹ بنا کر دینا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • سوشل میڈیا کے ذریعے پیسے کمانا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • Ruling on Investment in Digital Currency

    یونیکوڈ   انگلش   معاشی اسکیمز 0
  • فری لانسنگ میں کام کرنے کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 1
  • How is it to trade on Digital Currency

    یونیکوڈ   انگلش   معاشی اسکیمز 0
  • "الفاچیٹ جی پی ڈی" ویب سائٹ کی آمدن کا حکم

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
  • آنلائن بی سی میں سروس چارج کے نام پر پیسے لینا

    یونیکوڈ   معاشی اسکیمز 0
Related Topics متعلقه موضوعات