خنثی کی جنسی خواہشات کو پورا کرنے کے لئے کون سا عمل ضروری ہے، خنثی کے ساتھنا کوئی مرد اور نا کوئی عورت نکاح کے لئے تیار ہوتی ہے، تو اس کےلئے کیا حکم ہے؟ وہ کس طریقہ سے اپنے جنسی خواہشات کو پورا کرے؟
واضح ہو کہ جس "خنثی" میں مردانہ علامت غالب ہوں وہ شرعاً مرد کے حکم میں ہے، اور اس کے لئے کسی عورت سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، اسی طرح جس" خنثی" میں عورتوں کی علامت غالب ہوں وہ شرعاً عورت کے حکم میں ہے اور اس کے ساتھ کسی بھی مرد کے لئے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، لیکن اگر کسی"خنثی " میں مرد و عورت دونوں کی علامات یکساں طورپر موجود ہوں تو فقہی اصطلاح میں وہ "خنثی مشکل "کہلاتا ہے، اسمیں چونکہ مرد و عورت دونوں کی علامات موجود ہوتی ہے، اس لئے اسکے مرد و عورت ہونے میں سے کوئی ایک پہلو واضح نہیں ہوتا، اس لئے فقہاء کرام رحمہم اللہ نے اس کا کسی بھی مرد و عورت کے ساتھ نکاح کو ممنوع قرار دیا ہے، چنانچہ ایسے خنثی کا اپنی جنسی خواہشات کو کنٹرول کرنے کے لئے کثرت سے روزے رکھنے اور ذکر و اذکار وغیرہ عبادت میں مشغول رہنے کا اہتمام کرنا چاہئے۔
کما فی البحر الرائق: قال رحمه الله (فإن بلغ وخرجت له لحية أو وصل إلى النساء فرجل وكذا إذا احتلم من الذكر) ؛ لأن هذه من علامة الذكر، قال رحمه الله (وإن ظهر له ثدي أو لبن أو أمكن وطؤه فامرأة) ؛ لأن هذه من علامات النساء قال رحمه الله (وإن لم تظهر له علامة أو تعارضت فمشكل) لعدم ما يوجب الترجيح الخ (ج8،ص472، ط:ماجدیہ)۔
و فی الدر المختار: هو) عند الفقهاء (عقد يفيد ملك المتعة) أي حل استمتاع الرجل من امرأة لم يمنع من نكاحها مانع شرعي فخرج الذكر والخنثى المشكل الخ (کتاب النکاح، ج3، ص3-4، ط:سعید)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله: فخرج الذكر والخنثى المشكل) أي أن إيراد العقد عليهما لا يفيد ملك استمتاع الرجل بهما لعدم محليتهما له، وكذا على الخنثى لامرأة أو لمثله، ففي البحر عن الزيلعي في كتاب الخنثى: لو زوجه أبوه أو مولاه امرأة أو رجلا لا يحكم بصحته حتى يتبين حاله أنه رجل أو امرأة فإذا ظهر أنه خلاف ما زوج به تبين أن العقد كان صحيحا، وإلا فباطل؛ لعدم مصادفة المحل وكذا إذا زوج خنثى من خنثى آخر لا يحكم بصحة النكاح حتى يظهر أن أحدهما ذكر والآخر أنثى. اهـ (کتاب النکاح، ج3، ص3-4، ط:سعید)۔
بیوی یا بچے کی صحت کے پیشِ نظر مباشرت نہ کرنا- مانعِ حمل تدابیر اختیار کرنے کے احکام
یونیکوڈ جنسی مسائل 0